جموں و کشمیر میں تین دہائیوں میں پہلی بار دہشت گردی کے واقعات میں کمی: دلباغ سنگھ
جموں، 13 اکتوبر ۔ جموں وکشمیر پولیس نے رواں سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم سنگ میل حاصل کیا ہے۔ خطے میں تین دہائیوں میں دہشت گردی کے واقعات اور عام شہریوں کی اموات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے۔ اس سے پہلے سیکورٹی کی صورت حال کے لحاظ سے بہترین سال 2013 تھا۔ 2013 میں دہشت گردی سب سے کم سطح پر تھی۔ تاہم، اس کے بعد کے سالوں میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا جس کا مقصد دم توڑتی دہشت پسندی کو بحال کرنے کے لیے جذبات کو بھڑکانا تھا۔ سنگھ نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کو بحال کرنے کی کوشش کی اور وہ اس میں کامیاب ہوا۔ اس نے مزید لوگوں کو دہشت گردی کی طرف راغب کیا۔ سال 2017 میں دہشت گردی سے متعلق واقعات اور دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ تاہم جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نے موجودہ پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اُنہوں نے کہا کہ فورسسز نے دہشت گردی کی سرگرمیوں کے گراف کو سب کم سطح تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک قابل ذکر شماریاتی تبدیلی میں، دہشت گردی سے متعلق کیسز کی تعداد 2013 میں 113 سے گھٹ کر 2023 میں اب تک محض 42 رہ گئی ہے۔ سنگھ نے مزید کہا کہ 2022 میں جموں و کشمیر میں امن و امان کے 26 واقعات کا تاریخی کم ریکارڈ کیا گیا تھا اور رواں سال اکتوبر تک صرف تین ایسے واقعات ہوئے ہیں، جن میں سے کسی کا بھی دہشت گردی سے تعلق نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ سال 2012 میں خطے میں سب سے کم شہری ہلاکتیں 25 تھیں اور 2023 میں یہ تعداد مزید کم ہو کر محض 12 رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی آلات زندگیوں کے تحفظ میں کارگر ثابت ہوئے ہیں۔ ڈی جی پی نے کہا سال 2022 میں 15 افسران نے حتمی قربانی دی جبکہ اس سال صرف ایک اہلکار شہید ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سال 2012 میں پولیس کی ہلاکتوں کی سب سے کم تعداد چھ تھی۔
سنگھ نے کہا کہ 2018 میں، 210 نوجوان دہشت گردی کی طرف مائل ہوئے۔ 2023 میں یہ تعداد محض 10 ہے، جن میں سے چھ کو بے اثر کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی کو مضبوط بنانے کی جامع کوششوں کے شاندار نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ راجوری اور پونچھ میں حالیہ واقعات نے سیکورٹی گرڈ کا از سر نو جائزہ لینے پر مجبور کیا جس کے نتیجے میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کامیاب ہوئیں۔ پاکستان میں مقیم دہشت گردوں کی طرف سے وقفے وقفے سے دراندازی کے باوجود یہ علاقہ اب صرف مٹھی بھر دہشت گردوں کا گھر ہے۔
