اشوکا یونیورسٹی سونی پت کے پروفیسر علی خان محمود آباد حالیہ دنوں خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں، جب اُن کے فوج کے آپریشن “سندور” پر دیے گئے قابل اعتراض تبصرے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ اس معاملے نے ریاست ہریانہ میں سیاسی اور انتظامی ہلچل پیدا کر دی، جس کے نتیجے میں پولیس کارروائی، سمن، اور آخر کار گرفتاری تک بات پہنچی۔ ذیل میں اس واقعے کی تمام اہم معلومات دس نکات میں دی گئی ہیں۔
BulletsIn
-
پروفیسر علی خان محمود آباد نے فوج کے آپریشن “سندور” پر قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
-
سونی پت کے گاؤں جٹیڈی کے سرپنچ کی شکایت پر پروفیسر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
-
ہریانہ کے ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن رینو بھاٹیہ نے پروفیسر کو 14 مئی 2025 کو سمن جاری کیا تھا۔
-
سمن کے باوجود پروفیسر عدالت یا کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔
-
15 مئی کو رینو بھاٹیہ اشوکا یونیورسٹی پہنچی تھیں مگر پروفیسر خان وہاں بھی موجود نہیں تھے۔
-
یونیورسٹی دورے کے دوران سیکیورٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی پر رینو بھاٹیہ نے پولیس سے جھگڑا کیا۔
-
اس خلاف ورزی پر حکومت نے سونی پت کی پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
-
17 مئی کو پولیس کمشنر نازنین بھسین کا تبادلہ کر کے ممتا سنگھ کو نیا پولیس کمشنر مقرر کیا گیا۔
-
ممتا سنگھ کی ہدایت پر پروفیسر کے خلاف چھاپے مارے گئے اور مقدمہ درج کیا گیا۔
-
بالآخر اتوار کو دہلی سے پروفیسر علی خان محمود آباد کو گرفتار کر لیا گیا، اور پولیس نے تصدیق کی کہ سینئر حکام جلد بیان جاری کریں گے۔
