ممبئی میں 1993 کے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ ٹائیگر میمن کی 14 جائیدادوں کو ضبط کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ خصوصی عدالت نے ان جائیدادوں کو مرکزی حکومت کے حوالے کرنے کی ہدایت دی ہے، جو 1994 سے بمبئی ہائی کورٹ کے وصول کنندہ کے اختیار میں تھیں۔ یہ کارروائی ٹاڈا ایکٹ کے تحت عمل میں لائی گئی۔ ان بم دھماکوں میں 257 افراد جاں بحق اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ سی بی آئی کی تحقیقات کے مطابق، اس خوفناک سازش کے پیچھے انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم، ٹائیگر میمن، اور دیگر افراد کے ساتھ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا بھی ہاتھ تھا۔
BulletsIn
-
عدالتی حکم – خصوصی عدالت نے ٹائیگر میمن کی 14 جائیدادوں کو ضبط کرنے اور انہیں مرکزی حکومت کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔
-
جائیدادوں کی موجودہ حیثیت – یہ جائیدادیں 1994 سے بمبئی ہائی کورٹ کے وصول کنندہ کے اختیار میں تھیں۔
-
مقامات – ضبط شدہ جائیدادیں باندرہ، ماہم، سانتا کروز، کرلا، محمد علی روڈ، ڈونگری، منیش مارکیٹ، اور شیخ میمن اسٹریٹ میں واقع ہیں۔
-
قانونی کارروائی – ان جائیدادوں کی ضبطی ٹاڈا ایکٹ اور اسمگلرز اینڈ فارن ایکسچینج مینیپولیٹرس (جائیداد کی ضبطی) ایکٹ کے تحت کی گئی۔
-
عدالتی فیصلہ – جج وی ڈی کیدار نے 26 مارچ 2024 کو واضح کیا کہ یہ جائیدادیں قانونی پیچیدگیوں سے پاک ہیں اور حکومت کے قبضے میں دی جا سکتی ہیں۔
-
ٹائیگر میمن کے اہل خانہ – عدالت نے میمن کے اہل خانہ کو نوٹس جاری کیے، لیکن کسی نے جواب داخل نہیں کیا۔
-
بم دھماکوں کی سازش – سی بی آئی کے مطابق، 1993 کے دھماکوں کی منصوبہ بندی داؤد ابراہیم نے کی تھی، جبکہ ٹائیگر میمن اور محمد ڈوسا نے اس میں مدد دی۔
-
بین الاقوامی کردار – تحقیقات سے معلوم ہوا کہ دھماکوں کے پیچھے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا بھی کردار تھا۔
-
مجرمان اور سزائیں – داؤد ابراہیم اور ٹائیگر میمن آج بھی مفرور ہیں، جبکہ ٹائیگر میمن کے بھائی یعقوب میمن کو 2015 میں پھانسی دے دی گئی۔
-
حکومتی تحویل – عدالت کے فیصلے کے بعد ضبط شدہ جائیدادوں کو باضابطہ طور پر مرکزی حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔
