گاندھی نگر، 26 نومبر (ہ س)۔ گجرات کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل کی قیادت میں ریاست کا ایک اعلیٰ سطحی وفد اتوار کی صبح جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو پہنچا۔ جاپان میں ہندوستان کے سفیر ایس۔ جارج نے وزیر اعلیٰ پٹیل کے وہاں پہنچنے پر استقبال کیا۔ وفد نے یاماناشی پریفیکچر کے گورنر کوٹارو ناگاساکی سے ملاقات کی اور گجرات میں گرین ہائیڈروجن سیکٹر میں سرمایہ کاری کے امکانات پر تفصیلی بات چیت کی۔
یہ وفد 26 نومبر سے 02 دسمبر تک غیر ملکی دورے پر ہے جس کا مقصد 10 سے 12 جنوری کو گاندھی نگر، گجرات میں منعقد ہونے والی وائبرینٹ گجرات گلوبل سمٹ-2024 میں سرمایہ کاری کے لیے تاجروں کو مدعو کرنا ہے۔ جاپان کے بعد یہ وفد سنگاپور جائے گا۔
گجرات حکومت کے مطابق وزیر اعلیٰ پٹیل اور وفد کے دیگر ارکان نے یاماناشی ہائیڈروجن کمپنی کا دورہ کیا۔ انہوں نے یاماناشی کے گورنر سے گجرات میں گرین ہائیڈروجن سیکٹر میں سرمایہ کاری کے امکانات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعلیٰ نے گرین ہائیڈروجن کی سپلائی، سیلنگ اور سروسنگ کے عمل کا مظاہرہ بھی دیکھا۔ گورنر ناگاساکی کوتارو نے کہا کہ یاماناشی ہائیڈروجن کمپنی اس مظاہرے اور دیگر گرین ہائیڈروجن اقدامات کے ذریعے آئندہ وائبرینٹ سمٹ میں شرکت کی منتظر ہے۔ کوٹارو نے وزیر اعلیٰ پٹیل اور گجرات کے وفد کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اس ملاقات سے دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے وفد کو گرین ہائیڈروجن سیکٹر میں جاپان کی طرف سے اپنائے جانے والے نئے طریقوں کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن دی۔
وزیر اعلیٰ پٹیل نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان میں نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن، نیشنل الیکٹرک موبلٹی مشن پلان، 2070 تک خالص صفر کاربن کے اخراج کا ہدف جیسے اقدامات کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے گجرات میں قابل تجدید توانائی کے پورٹ فولیو کو 100 گیگاواٹ تک لے جانے کے ہدف اور گجرات کی نئی قابل تجدید پالیسی کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے یاماناشی گورنر کو وائبرنٹ سمٹ 2024 میں شرکت کی دعوت دی تاکہ قابل تجدید توانائی کے شعبے اور گرین ہائیڈروجن سیکٹر میں جاپان گجرات تعلقات کو نئے مواقع اور نئی سرمایہ کاری فراہم کی جا سکے۔
یاماناشی کے گورنر اتوار کو چھٹی والے دن بھی اس میٹنگ میں موجود تھے۔ اس پر وزیر اعلیٰ نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ گجرات کے چیف سکریٹری راج کمار کی قیادت میں ریاستی حکومت کے سینئر سکریٹریز اور سرکردہ صنعتکار بھی میٹنگ کے دوران موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
