نئی دہلی، 14 اکتوبر (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ترقی کے لیے شراکت داریبھارت- سری لنکا دو طرفہ تعلقات کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک ہے۔ وزیر اعظم نے ہفتہ کو ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے ناگاپٹنم (بھارت) اور کانکیسنتھورائی (سری لنکا) کے درمیان فیری خدمات کے آغاز کے موقع پر خطاب کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت اور سری لنکا سفارتی اور اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں اور ناگاپٹنم اور کانکیسنتھورائی کے درمیان فیری سروس کا آغاز تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا، ”ہندوستان اپنے لوگوں کے باہمی فائدے کے لیے اپنے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لئے سری لنکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔“
وزیر اعظم مودی نے شراکت داری کو دونوں ملکوں کی ترقی کا ایک طاقتور ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ ہمارا وژن سب کو ترقی فراہم کرنا ہے، کسی کو پیچھے نہیں چھوڑ نا ہے ۔ سری لنکا میں ہندوستانی امداد سے نافذ کیے گئے پروجیکٹوں نے لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی صوبے میں رہائش، پانی، صحت اور ذریعہ معاش سے متعلق کئی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں اور کانکیسنتھورائی ہاربر کی اپ گریڈیشن کے لیے تعاون پر خوشی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا،”خواہ وہ شمال سے جنوب کو ملانے والی ریلوے لائنوں کی بحالی ہو؛ باوقار جافنا ثقافتی مرکز کی تعمیر؛ سری لنکا بھر میں ہنگامی ایمبولینس سروس شروع کرنا؛ یاڈک اویا ملٹی کے اسپیشلٹی -اسپتال میں، ہم سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس کے وژن کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔“
بھارت اور سری لنکا کے درمیان ثقافت، تجارت اور تہذیب کی مشترکہ تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ قدیم تمل ادب میں ناگاپٹنم اور آس پاس کے شہر سری لنکا سمیت کئی ممالک کے ساتھ سمندری تجارت کے لیے جانے جاتے ہیں اور پومپوہار کی تاریخی بندرگاہ کاذکر ایک مرکز کے طور پر کیا جا تا ہے ۔ انہوں نے سنگم دور کے ادب جیسے پٹیناپلائی اور منیمیکلائی کے بارے میں بھی بات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان کشتیوں اور جہازوں کی نقل و حرکت کو بیان کیا گیا ہے ۔ انہوں نے عظیم شاعر سبرامنیم بھارتی کے گیت ‘سندھو ندھیئن مسائی’ کو بھی یاد کیا، جس میں ہندوستان اور سری لنکا کو جوڑنے والے پل کا ذکر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیری سروس ان تمام تاریخی اور ثقافتی رشتوں کو زندہ کرتی ہے۔
صدر وکرما سنگھے کے حالیہ دورے پر وزیر اعظم نے کہا کہ کنیکٹیویٹی کے مرکزی موضوع کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کے لیے وژن دستاویز کو مشترکہ طور پر اپنایا گیا ہے۔ مودی نے کہا، ”کنیکٹیویٹی کا مطلب صرف دو شہروں کو قریب لانا نہیں ہے۔ یہ ہمارے ممالک کو قریب ، ہمارے لوگوں کو قریب اور ہمارے دلوں کو قریب لاتا ہے۔“ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کنیکٹیویٹی تجارت، سیاحت اور عوام کے درمیان روابط کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔
حال ہی میں ہندوستان کی میزبانی میں منعقدہ جی۔20 سربراہی اجلاس میں اپنائے گئے بھارت کے وسودھیو کٹمبکم کے بارے میں روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے اس کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نقطہ نظر کا حصہ پڑوسی ممالک کے ساتھ ترقی اور خوشحالی کے اشتراک کو ترجیح دینا ہے۔
ہندوستھان سماچار
