دمشق،17جولائی(ہ س )۔
اسرائیل کی جانب سے دمشق میں بمباری کے بعد شامی صدر احمد الشرع نے جمعرات کی صبح قوم سے خطاب میں اسرائیل پر شام کے اندر فتنہ انگیزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اسرائیل نے سویداء میں کشیدگی کو بھڑکایا ہے۔
اپنے خطاب میں صدر الشرع نے دروز برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہم کسی بھی ایسے اقدام کو مسترد کرتے ہیں جو آپ کو بیرونی فریقوں کی طرف کھینچے یا ہمارے اندر تقسیم پیدا کرے۔
انھوں نے کہا کہ شامی عوام نے آزادی کے لیے قربانیاں دیں، اور اگر ا±ن کی عزت کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ دوبارہ لڑنے کو تیار ہیں۔الشرع کا کہنا تھا کہ اسرائیل، جو ہمیشہ ہمارے استحکام کو نشانہ بناتا رہا ہے، آج پھر ہماری سرزمین کو فتنہ و فساد کی آماج گاہ بنانے پر تلا ہوا ہے تاکہ ہماری وحدت کو توڑے اور ہماری تعمیر نو کی کوششوں کو ناکام بنائے۔
صدر نے مزید کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کون کر رہا ہے، لیکن ہم اپنے وطن کو کسی بھی بیرونی سازش کا میدانِ کارزار نہیں بننے دیں گے۔
انھوں نے کہا شام سب کا وطن ہے، اور ہم اس کی عزت و وقار کی بحالی کے لیے متحد ہیں۔ دروز برادری کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وطن کے اصل دھارے کا حصہ ہیں اور ہم ان کے حقوق و آزادی کی مکمل حفاظت کریں گے۔
الشرع نے واضح کیا کہ سویداء میں مسلح گروپوں کے درمیان پرانے جھگڑوں کے نتیجے میں جھڑپیں ہوئیں، جنھیں ریاست نے روکنے کی سنجیدہ کوشش کی۔ تاہم کچھ غیر قانونی گروہ، جو کئی ماہ سے بات چیت سے انکاری تھے، بد امنی پھیلانے میں ملوث نکلے۔
صدر کے مطابق ریاست نے بالآخر ان گروہوں کو سویداء سے نکال کر امن بحال کیا، مگر اسرائیل نے اس عمل کو ناکام بنانے کے لیے وسیع بم باری کی جس سے صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ اگر امریکی، عرب اور ترک ثالثی بروقت نہ ہوتی تو علاقہ بڑے خطرے میں پڑ جاتا۔
یاد رہے، اتوار کے روز سویداء میں دروز اور بدو قبائل کے مسلح گروپوں میں جھڑپیں ہوئیں جن میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔ پیر کو شامی حکومت نے فوجی مداخلت کی، جب کہ اسرائیل نے دروز کے تحفظ کے نام پر دمشق اور جنوبی شام پر حملے کیے۔ بدھ کی شام حکومت نے سویداء میں دروز فریقوں سے جنگ بندی پر اتفاق کا اعلان کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ
