کینبرا،08اگست(ہ س)۔آسٹریلیا نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ پر فوجی کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ ترک کر دے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے جنگ زدہ علاقے میں انسانی بحران مزید شدید ہو جائے گا۔وزیرِ خارجہ پینی وونگ نے جمعے کو ایک بیان میں کہا، آسٹریلیا اسرائیل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس راستے پر نہ جائے جو غزہ میں انسانی تباہی میں مزید اضافہ کر دے۔وونگ نے کہا ہے کہ مستقل جبری نقلِ مکانی سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو گی اور انہوں نے آسٹریلیا کی جانب سے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور حماس کے ہاں اسیر اسرائیلیوں کی رہائی کے مطالبات کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا، دو ریاستی حل ہی پائیدار امن کے حصول کا واحد راستہ ہے – ایک فلسطینی ریاست اور ریاست اسرائیل جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر امن و سلامتی سے شانہ بشانہ رہیں۔آسٹریلیا تاحال مغربی اتحادیوں مثلاً برطانیہ، کینیڈا اور فرانس کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے میں شامل نہیں ہوا لیکن کہا ہے کہ وہ مناسب وقت پر یہ فیصلہ کرے گا۔ کینبرا نے حال ہی میں جنگ کے دوران اسرائیل کے طرزِ عمل پر تنقید میں اضافہ کیا ہے۔وونگ کا بیان اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے تبصروں کے بعد آیا جنہوں نے فاکس نیوز کو بتایا کہ اسرائیل غزہ پر مکمل فوجی کنٹرول حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد بالآخر حکومت عرب افواج کو منتقل کرنا تھا اگرچہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کون سے ممالک اس میں شامل ہوں گے یا اس انتظام کی صورت کیسی ہو گی۔جمعہ کو سکیورٹی کابینہ کے اجلاس کے بعد نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی کہ غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی منظوری دے دی گئی۔ایک بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھتے ہوئے غزہ شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کی تیاری کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan
