ریاض،06جنوری(ہ س)۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے عالمی برادری کی کوششوں کی مجمتع کیا جانا ضروری ہے۔ وزارت خارجہ نے اسرائیل کی قابض حکومت کے دو وزراءکے انتہا پسندانہ بیانات پر مملکت کی مذمت اور دو ٹوک رد عمل کا اظہار بھی کیا، جنہوں نے غزہ کے باشندوں کی نقل مکانی، غزہ کی پٹی پر دوبارہ قبضے اور بستیوں کی تعمیر کا مطالبہ کیا تھا۔وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ مملکت اپنے بیانات اور اقدامات کے ذریعے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف عالمی احتسابی میکانزم کو فعال کرنے کے لیے عالمی برادری کی مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔
درایں اثناءامریکا نے بھی دو اسرائیلی وزراءکی طرف سے حالیہ جنگ کے بعد غزہ میں یہودی آباد کاروں کی واپسی کے حوالے سے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ فلسطینی سرزمین ہے اور وہ فلسطین کا حصہ رہے گی۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا اسرائیلی وزراءبیزلیل سموٹریچ اور ایتمار بن گویر کے حالیہ بیانات کو مسترد کرتا ہے جس میں غزہ سے باہر فلسطینیوں کی آباد کاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے اسرائیلی وزراءکے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ جہاں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے گذشتہ جمعرات کو اپنے حکمران اتحادیوں کے دباو¿ کی وجہ سے جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کے مستقبل کے معاملے پر بات چیت منسوخ کر دی تھی، وہیں وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے اپنے متنازع بیانات پر دہرائے ہیں۔اتوار کے روز سموٹریچ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کو ایسی صورت حال کو قبول نہیں کرنا چاہیے جس میں غزہ کی پٹی میں بیس لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
