جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے مارشل لاء کے نفاذ پر اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے جمہوریت کے تحفظ اور آئین کی حفاظت کو اپنی ترجیحات قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ جمہوری نظام کے زوال کو روکنے اور اپوزیشن کی جانب سے پارلیمانی آمریت کے خلاف قانونی اقدام کے طور پر کیا گیا تھا۔ تاہم، ان کے اس اقدام پر شدید مخالفت اور تحقیقات کا سامنا ہے، جبکہ اپوزیشن پارٹی ان کے مواخذے کی تحریک دوبارہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
BulletsIn
- جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے مارشل لاء کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے اسے جمہوریت اور آئینی نظام کے تحفظ کے لیے ایک قانونی فیصلہ قرار دیا۔
- انہوں نے کہا کہ وہ آخری دم تک لڑیں گے، چاہے ان کے خلاف تحقیقات ہوں یا مواخذہ۔
- یول کا کہنا ہے کہ ملک کا آئینی نظام مفلوج ہو چکا ہے اور مارشل لاء کا نفاذ ناگزیر تھا۔
- مارشل لاء کا نفاذ گزشتہ ہفتے منگل اور بدھ کی درمیانی شب کیا گیا، جو صرف چھ گھنٹے تک نافذ رہا۔
- قومی اسمبلی کی ووٹنگ کے بعد صدر کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔
- یول کے اس اقدام پر عوام اور اپوزیشن کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔
- اپوزیشن کی ڈیموکریٹک پارٹی نے مواخذے کی نئی تحریک پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
- گزشتہ ہفتے یول کے مواخذے کی پہلی تحریک حکمران جماعت کے قانون سازوں کی جانب سے بائیکاٹ کے باعث ناکام ہو گئی تھی۔
- پولیس نے بدھ کو صدر دفتر اور پولیس ہیڈ کوارٹر پر چھاپے مارے اور تحقیقات کا آغاز کیا۔
- یول کا کہنا ہے کہ ان کا اقدام بغاوت کے مترادف نہیں تھا بلکہ حکمرانی کا ایک قانونی عمل تھا۔
