راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ہفتے میں دو مرتبہ ملاقات کی جا سکتی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کا اپنی اہلیہ سے ملنے کا حق بحال کر دیا ہے اور جیل کی صورتحال سے متعلق تمام درخواستوں پر غور کے لیے تین رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔ عدالت نے ملاقاتوں کے حوالے سے کچھ شرائط بھی عائد کی ہیں۔
BulletsIn
-
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو ہفتے میں دو بار اہلیہ سے ملاقات کی اجازت دے دی۔
-
تین رکنی لارجر بینچ کی سربراہی نئے قائم مقام چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کر رہے ہیں۔
-
عدالت میں عمران خان کے جیل میں حقوق اور دیگر 26 درخواستوں پر سماعت کی گئی۔
-
سماعت میں اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ عبدالغفار انجم کے خلاف توہین عدالت کی درخواستیں بھی شامل تھیں۔
-
عدالت نے حکم دیا کہ ملاقات کے لیے نام پی ٹی آئی بانی کا کوآرڈینیٹر فراہم کرے گا۔
-
ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت پر پابندی ہوگی۔
-
عدالت نے جیل انتظامیہ کو عدالتی احکامات پر عمل کرنے کی ہدایت کی۔
-
یہ فیصلہ عمران خان کی قانونی ٹیم کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں کے بعد آیا۔
-
ملاقاتوں کے طریقہ کار اور دیگر ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔
-
عدالتی فیصلے سے عمران خان کے جیل میں حقوق کے حوالے سے مزید قانونی پیش رفت کا امکان ہے۔
