ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو ایک بار پھر کرپشن کے الزامات کی زد میں آ گئے ہیں۔ ان کے خلاف برسوں سے جاری عدالتی کارروائی میں ایک اور اہم پیشی متوقع ہے۔ اس صورتحال میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کھل کر نیتن یاہو کے دفاع میں سامنے آ گئے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں ایک رہنما کے خلاف ٹرائل ناانصافی ہے، جس نے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو مضبوط کیا۔
-
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے الزامات میں عدالت میں ایک اور پیشی پیر کے روز متوقع ہے۔
-
یہ پہلا موقع ہے کہ کسی حاضر سروس اسرائیلی وزیراعظم پر باضابطہ عدالتی مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
-
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے حق میں کھل کر بیان دیا ہے اور ٹرائل روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
-
ٹرمپ نے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ ایک ایسا شخص جس نے اسرائیل کے لیے اتنا کچھ کیا، اس پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
-
ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اور وہ ایران جیسے دشمنوں سے نمٹنے کے مشکل ترین وقتوں سے گزرے ہیں۔
-
ٹرمپ کے مطابق نیتن یاہو پر غیر منصفانہ الزامات لگائے جا رہے ہیں تاکہ انہیں سیاسی نقصان پہنچایا جا سکے۔
-
انہوں نے ٹرائل کو “انصاف کی بگڑی ہوئی صورت” قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ نیتن یاہو کو معافی دی جائے۔
-
ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو جیسا وفادار لیڈر اسرائیل کے لیے نایاب ہے اور اس کے خلاف کارروائی ناقابل قبول ہے۔
-
ان کا کہنا تھا کہ جس طرح امریکہ نے اسرائیل کو بچایا، اب وہ نیتن یاہو کو بھی بچائے گا۔
-
ٹرمپ کے اس بیان نے نہ صرف اسرائیل بلکہ بین الاقوامی سیاست میں بھی نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
