اسلام آباد، 3 مئی (ہ س)۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت نے جمعرات کو پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر ایک وائٹ پیپر جاری کیا اور پارلیمنٹ کی 180 نشستیں چھیننے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں کسی بھی جماعت کو مکمل اکثریت نہیں حاصل ہوئی۔ چونکہ عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پاس اپنا انتخابی نشان نہیں تھا، اس لیے اس کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے 336 رکنی قومی اسمبلی میں 93 نشستیں حاصل کی تھیں۔ تین بار کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) نے 75 نشستیں حاصل کیں، جب کہ بلاول زرداری کی قیادت والی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) 54 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم۔پی) نے 17 نشستیں حاصل کیں۔
عمران خان مختلف مقدمات میں جیل میں ہیں۔ ان کی پارٹی نے کہا ہے کہ شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حمایت کی گئی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے اس کے مینڈیٹ کو چوری کرتے ہوئے نتائج ک لئے ایک ایک الگ فارم کا استعمال کیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے صدر بیرسٹر گوہر خان نے جمعرات کو اسلام آباد میں پارٹی کے دیگر رہنماوں کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے(8 فروری) انتخابات میں 180 نشستیں جیتیں۔ ہماری سیٹیں فارم 47 کے ذریعے دوسری پارٹیوں کو دی گئیں۔
گوہر نے کہا کہ انہوں نے مبینہ بے ضابطگی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ لیکن درخواست ابھی تک سماعت کے لیے درج نہیں ہوئی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم 300 صفحات پر مشتمل وائٹ پیپر جاری کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کی توجہ اس بات پر لائی جا سکے کہ ان کا مینڈیٹ کیسے چرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وائٹ پیپر بین الاقوامی اداروں، غیر ملکی میڈیا اور اخبارات کی رپورٹس پر مبنی ہے اور اس میں انتخابی بے ضابطگیوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
