لندن، 06 مئی ۔ امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے سابق ہائی پروفائل ایجنٹ کامران فریدی کو عدالت نے تقریباً چار سال بعد فلوریڈا کی جیل سے مشروط طور پر رہا کر دیا۔ کامران کو رواں سال اگست سے پہلے پاکستان واپس آنا ہوگا۔ پاکستان کے جیو نیوز کی ویب سائٹ پر اس پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔
جیو نیوز نے عدالتی حکم کی بنیاد پر رپورٹ میں کہا کہ نیویارک کے جنوبی ضلع کے ڈسٹرکٹ جج کیتھی سیبیل نے فریدی کو 84 ماہ کی اصل سزا پوری کرنے سے قبل رہا کرنے کا حکم دیا۔ کامران فریدی کسی زمانے میں کراچی کا اسٹریٹ گینگسٹر تھا۔ امریکی حکومت نے نہ صرف اس کی شہریت منسوخ کر دی ہے بلکہ یو اے ای اور ترکیہ میں اس کے دو رہائشی اجازت نامے بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
جیل سے رہائی کے بعد کامران اپنی اہلیہ کیلی کے ساتھ فلوریڈا میں مقیم ہیں۔ کامران نے کہا ہے کہ عدالت نے اس کی رہائی پر بہت سی شرائط عائد کی ہیں، سب سے اہم شہریت چھوڑنا ہے۔ یہ شہریت 1990 کی دہائی کے اوائل میں ایف بی آئی کے لیے کام کرنے پر رضامندی کے بعد حاصل کی گئی تھی۔ فریدی کو 09 دسمبر 2022 کو ویسٹ چیسٹر، نیویارک میں ایف بی آئی کے تین سابق ساتھیوں کو دھمکیاں دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق فریدی نے 16 اگست 2018 کو لندن میں کراچی سے تعلق رکھنے والے تاجر جابر موتی والا کی گرفتاری میں کردار ادا کیا تھا۔ فریدی ایف بی آئی ایجنٹ کے کردار میں پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سے وابستہ رہا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق 1995 سے فروری 2020 تک ایف بی آئی کے لیے کام کرنے والے فریدی کی تنزلی کا آغاز 02 مارچ 2020 کو ہوا۔ اگلے دن اسے لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے پر اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ اپنی اہلیہ کیلی کے ساتھ میامی سے برطانیہ میں داخل ہونے کی کوشش کر ر ہا تھا۔ اس نے لندن جانے سے پہلے موتی والا کے لندن کے وکلا سے بات کی تھی۔ موتی والا اس وقت امریکہ میں حوالگی کے انتظار میں بیلمارش جیل میں بندتھا۔
ہندوستھان سماچار
