اسرائیل نے تین یورپی ممالک کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حتمی اعلان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے ان ممالک کے سفیروں کو جمعرات کو یروشلم بلا کر انہیں غزہ جنگ کی ویڈیو دکھانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اسرائیل نے ڈبلن، اوسلو اور میڈرڈ میں اپنے سفیروں کو بھی مزید مشاورت کے لیے واپس بلا لیا ہے۔ اس اعلان کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
BulletsIn
- اسرائیل نے ان تین یورپی ممالک کے سفیروں کو یروشلم بلانے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
- ان ممالک میں آئرلینڈ، ناروے اور سپین شامل ہیں۔
- ان ملکوں کے سفیروں کو اسرائیلی وزارت خارجہ کے عہدیدار سات اکتوبر سے متعلق ویڈیو دکھائیں گے جو غزہ میں جنگ کے حالات کی عکاسی کرتی ہے۔
- اسرائیل نے ڈبلن، اوسلو اور میڈرڈ میں اپنے سفیروں کو بھی مزید مشاورت کے لیے واپس یروشلم بلالیا ہے۔
- فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوگئی ہے۔
- اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
- امریکی سرپرستی میں طے پانے والے دور ریاستی حل کے معاہدے پر سفارت کاری رک چکی ہے۔
- سات اکتوبر سے غزہ جنگ کی وجہ سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
- اسرائیل حماس کے ساتھ جنگ بندی پر راضی نہیں ہے۔
- مزید کئی مغربی ممالک بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے ان تین ملکوں کی پیروی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
