واشنگٹن، 10 دسمبر (ہ س)۔ امریکہ کی اعلیٰ اور قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک یونیورسٹی آف پنسلوانیا کی صدر لز میگل نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ پنسلوانیا کی صدر کے طور پر لز کا یہ دوسرا سال ہے۔ یونیورسٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 57 سالہ لز یونیورسٹی کے کیری لا اسکول کی فیکلٹی ممبر بنی رہیں گی۔ اس کے علاوہ وہ اگلے صدر کی تقرری تک صدر کے عہدے کی ذمہ داری بھی نبھائیں گی۔ اس یونیورسٹی کی بنیاد معزز ادیب بینجامن فرینکلن نے رکھی تھی۔ بینجامن فرینکلن کو امریکہ کا بانی اور مولد کہا جاتا ہے۔
امریکہ کے معروف اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق لز میگل کی کالج کیمپس میں بڑھتی ہوئی یہودی دشمنی کے حوالے سے امریکی کانگریس کے سامنے پیشی ہوئی۔ اس دوران ان سے باربار پوچھا گیا کہ کیا کیمپس میں یہودیوں کے قتل عام کا مطالبہ اسکول کی طرز عمل کی پالیسیوں کی خلاف ورزی ہے یا نہیں۔ اس کے باوجود لز میگل نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ اب یہ اطلاع ملی ہے کہ لز میگل کو یونیورسٹی کے عطیہ دہندگان کی تنقید کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیل حماس جنگ کی وجہ سے امریکی تعلیمی اداروں میں یہودی مخالف واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ لز میگل منگل کو امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہوئیں۔ اس دوران ہاورڈ یونیورسٹی اور ایم آئی ٹی کے صدور بھی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ امریکی یونیورسٹیوں پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے کیمپس میں یہودی مخالف واقعات کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں اور اس سے یہودی طلبہ میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ لز کئی دیگر یونیورسٹیوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔ وہ امریکی سپریم کورٹ میں لاء کلرک رہ چکی ہیں اور ایک سابق وفاقی جج کی بیٹی ہیں۔ اس سے قبل لز میگل سٹینفورڈ یونیورسٹی لا اسکول کی ڈین اور یونیورسٹی آف ورجینیا کی اعلیٰ منتظم رہ چکی ہیں۔
ہندوستھان سماچار//سلام
