بیونس آئرس، 20 نومبر (ہ س)۔ ارجنٹینا کے اگلے صدر دائیں بازو کے رہنما جیویئر مائلی ہوں گے۔ اتوار کو منتخب صدر کے طور پر اپنے پہلے خطاب میں مائلی نے کہا کہ ملک میں صورتحال سنگین ہے۔ انہوں نے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد بڑی تبدیلیاں کرنے کا وعدہ کیا۔ جیویئر مائلی نے کہا کہ ارجنٹینا کی تعمیر نو آج سے شروع ہو رہی ہے۔
ارجنٹینا کی انتخابی اتھارٹی کے مطابق جیویر مائلی کو 55.8 فیصد ووٹ ملے اور وزیر اقتصادیات سرجیو ماسا کو 44.2 فیصد ووٹ ملے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ میں دائیں بازو کے لبرل رہنما جیویئر مائلی کا موازنہ ڈونلڈ جے ٹرمپ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ 53 سالہ مائلی ایک ماہر معاشیات ضرور ہیںلیکن ان کا کوئی حقیقی سیاسی تجربہ نہیں ہے۔ وہ ملکی معیشت کو کیسے پٹری پر لاتے ہیں، یہ سب سے بڑا سوال ہے۔
مائلی نے اخراجات اور ٹیکسوں میں کمی، ارجنٹینا کے مرکزی بینک کو بند کرنے اور ملک کی کرنسی کو امریکی ڈالر سے تبدیل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے اسقاط حمل پر پابندی عائد کرنے، بندوقوں پر ضابطوں میں نرمی کرنے اور صرف ان ممالک پر غور کرنے کی تجویز پیش کی ہے جو ارجنٹینا کے اتحادیوں کے طور پر سوشلزم کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں۔ وہ اکثر امریکہ اور اسرائیل کی مثالیں دیتے رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ارجنٹینا لاطینی امریکہ میں تیسری بڑی معیشت والا ملک ہے۔ آج یہ ملک مہنگائی، بڑھتی کساد بازاری اور غربت کے مسائل سے دوچار ہے۔
ہندوستھان سماچار
