تہران،20جون(ہ س)۔اسرائیلی فوج کی جانب سے ایران کے مختلف مقامات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی میں ڈرون طیارے بھیجے ہیں۔ڈرون طیاروں کی روک تھام
العربیہ کے نمائندے نے جمعرات کے روز بتایا کہ ایک اسرائیلی دفاعی میزائل نے عکا کے خلیج میں ایک فضائی ہدف کو مار گرایا۔اسی علاقے میں ایرانی ڈرون کو روکے جانے کی تصاویر بھی منظرِ عام پر آئیں۔نمائندے نے مزید بتایا کہ بعض اسرائیلی رپورٹوں کے مطابق، شام کی سمت سے آنے والے ڈرون طیاروں کو بھی روکا گیا ہے۔ ادھر، دیگر تصاویر میں دکھایا گیا کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام نے تہران پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کو روکنے کی کوشش کی۔اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ ایک ایرانی ڈرون کو حیفا کے شمال میں روکا گیا، جب کہ دو دیگر ڈرونوں کو ایلات کے شمال میں بحیرہ مردار کے علاقے میں مار گرایا گیا۔ فوج کے مطابق، ان ڈرونوں کو ایران کے اندر سے بھیجا گیا تھا۔اس دوران اسرائیلی داخلی محاذ نے ہنگامی انتباہات جاری کیے، جو چند منٹ بعد اس اعلان کے ساتھ ختم کر دیے گئے کہ ڈرونوں کو روک دیا گیا ہے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق مغربی ایران کے علاقے لورستان میں اسرائیل سے تعاون کرنے والے 16 جاسوسوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔اسرائیلی فوج نے ایران کے کلش طالشان نامی صنعتی علاقے کے باشندوں کو متنبہ کرتے ہوئے علاقے سے انخلا کا حکم دیا۔ فوج کے بیان کے مطابق، یہ انخلا ایک ایرانی فوجی تنصیب پر متوقع حملے کے پیشِ نظر ضروری تھا۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں تہران کے مشرقی علاقے لویزان پر اسرائیلی حملے دیکھے جا سکتے ہیں، جب کہ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، مشرقی تہران میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔یاد رہے کہ 13 جون سے اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں پر فضائی حملوں اور بم باری کی ایک مہم شروع کر رکھی ہے، جن میں عسکری تنصیبات، میزائل لانچنگ پلیٹ فارموں اور جوہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اسرائیلی حملوں میں درجنوں اعلیٰ ایرانی فوجی کمانڈروں اور کم از کم 10 جوہری سائنس دانوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ واشنگٹن میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق، ان حملوں میں اب تک کم از کم 639 افراد جاں بحق اور 1329 زخمی ہوئے ہیں، جن میں 263 عام شہری اور 154 سیکیورٹی اہل کار شامل ہیں۔اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر میزائل داغے اور ڈرون طیارے بھیجے، اور مزید کارروائیوں کی دھمکی دی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan
