بیجنگ، 19 دسمبر ( ہ س)۔ چین میں پیر کی رات 12 بجے کے قریب آنے والے طاقتور زلزلے میں کم از کم 116 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس سے قبل 111 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.2 ریکارڈ کی گئی ہے۔ چائنا ارتھ کوئیک نیٹ ورک سینٹر کا کہنا ہے کہ زلزلے کے شدید جھٹکے آتے ہی لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔
چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق زلزلے سے اب تک شمال مغربی چین کے صوبے گانسو میں 105 اور کنگھئی صوبے میں 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ گانسو صوبے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ ملک کی بلیو اسکائی ریسکیو ٹیم راحت اور بچاو¿ کے کاموں میں مصروف ہے۔ اخبار کے مطابق، گانسو صوبے کی جیشیشان کاونٹی میں 6.2 شدت کے زلزلے کے بعد گانسو ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے 33 ایمبولینسز اور دیگر پیشہ ورانہ گاڑیوں کے ساتھ ساتھ 173 طبی کارکنوں کو جائے وقوعہ پر روانہ کیا۔
کنگھئی صوبے نے متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیوں کے لیے 68 ایمبولینسز اور 40 سے زائد صوبائی اور میونسپل ماہرین کو بھی روانہ کیا۔ آج (منگل) صبح 6:30 بجے تک متاثرہ علاقے میں 300 سے زائد زخمیوں کا علاج کیا گیا۔ نیشنل ہیلتھ کمیشن نے بھی فوری طور پر طبی ایمرجنسی رسپانس فورس کو روانہ کر دیا۔ صوبہ کنگھئی کے ہئیڈونگ میں زلزلے سے بڑا نقصان ہوا۔ اس وقت یہاں کم از کم درجہ حرارت منفی 12 ڈگری سیلسیس سے نیچے ہے۔ شدید سردی کے درمیان راحت اور بچاو¿ کا کام جاری ہے۔ہیڈونگ جیشیشیان سے تقریباً 20 کلومیٹر دور ہے۔
گلوبل ٹائمز کے مطابق اس زلزلے نے 2010 کی یاد تازہ کر دی ہے۔ 2010 میں، گانسو صوبے میں 6.6 کی زیادہ سے زیادہ شدت کے ساتھ ایک طاقتور زلزلہ آیا تھا، جس میں 100 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
ہندوستھان سماچار
