آج بھی بالی ووڈ کے میگا اسٹار امیتابھ بچن کا جوش کئی نوجوان فنکاروں پر بھاری پڑتا ہے۔ وہ اپنے کام کی وجہ سے ہمیشہ خبروں میں رہتے ہیں۔ حال ہی میں فلم انڈسٹری کے حوالے سے امیتابھ بچن کا ایک بیان زیر بحث ہے۔ بگ بی نے حال ہی میں سمبیوسس فلم فیسٹیول میں فلم انڈسٹری کی کئی چیزوں پر تبصرہ کیا۔ بگ بی نے فلم انڈسٹری میں تکنیکی ترقی کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
دراصل سمبیوسس یونیورسٹی میں فلم فیسٹیول کا افتتاح بگ بی اور ان کی اہلیہ جیا بچن نے کیا۔ بات چیت کے دوران بگ بی نے کہا،’فلم انڈسٹری کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فلموں کو معاشرے کو کچھ دینا ہوتا ہے اور اکثر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ فلم انڈسٹری لوگوں کی ذہنیت کو بدلنے کی ذمہ دار ہے‘۔
بگ بی نے بتایا کہ ان کے والد بھی اپنے آخری دنوں میں ہندی فلمیں دیکھا کرتے تھے۔ ہری ونش رائے بچن اکثر پہلے سے ہی دیکھی ہوئی فلمیں دیکھا کرتے تھے ۔ بگ بی نے جہاں ملیالم اور تمل فلموں کی تعریف کی ، وہیں انہوں نے واضح کیا کہ وہ بہت سے لوگوں کی اس رائے سے متفق نہیں ہیں کہ ساوتھ کی فلمیں ہندی فلموں سے بہتر ہیں۔
بگ بی نے کہا، ’علاقائی فلمیں اچھا بزنس کر رہی ہیں، لیکن اگر آپ دیکھیں تو وہ بھی وہی فلمیں کر رہی ہیں جو پہلے ہندی میں بن چکی ہیں۔ وہ صرف ملبوسات تبدیل کر رہے ہیں تاکہ وہ زیادہ مختلف اور خوبصورت نظر آئیں۔ ملیالم اور کسی حد تک تمل فلمیں بہت الگ اور بھرپور موضوعات پر مبنی ہیں، لیکن کسی ایک فلم انڈسٹری پر انگلی اٹھانا اور یہ کہنا کہ ان کی فلمیں بہترین ہیں، درست نہیں ہے ۔
