چنڈی گڑھ، 02 نومبر (ہ س)۔ پنجاب ویجیلنس بیورو نے انسانی حقوق سیل، پنجاب پولیس کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) مالویندر سنگھ سدھو سمیت کئی لوگوں کے خلاف جبراًوصولی ، دھوکہ دہی اور بدعنوانی کا مقدمہ درج کیا ہے۔
بیورو کے مطابق اے آئی جی سدھو کے علاوہ فوڈ، سول سپلائیز اینڈ کنزیومر افیئر ڈپارٹمنٹ کے ڈرائیور کلدیپ سنگھ ساکن موہالی اور ضلع پٹیالہ کے رہنے والے بلبیر سنگھ کے خلاف سرکاری عہدے کا غلط استعمال کرنے، سرکاری ملازمین کو دھوکہ دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ بلیک میلنگ، جبراً وصولی اور رشوت لینے کا جرم کیا گیا ہے۔ بیورو کے ترجمان نے جمعرات کو کہا کہ سرکاری ملازمین کے خلاف شکایات دینے کے بعد اے آئی جی سدھو بلیک میلنگ اور ناجائز فائدہ اٹھا کر ان شکایات کو واپس لے لیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ تحقیقات کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مالویندر سنگھ سدھو نے پچھلے پانچ سالوں میں کبھی ویجیلنس بیورو کے عہدوں پر کام نہیں کیا۔ اس کے باوجود اے آئی جی نے اپنی سرکاری گاڑی ارٹیگا (پی بی 65 اے ڈی 1905) پر تیل اور دیگر اخراجات خرچ کرکے سرکاری کھاتے کا غلط استعمال کیا۔ اس نے کبھی بھی اس گاڑی کا لاگ بک ریکارڈ نہیں رکھا جو کہ سرکاری املاک کا غلط استعمال ہے۔
اس کے علاوہ تحقیقات سے پتہ چلا کہ اے آئی جی سدھو نے بلاک پرائمری ایجوکیشن آفیسر، راج پورہ کے دفتر میں ڈیٹا آپریٹر کو بتایا کہ وہ پنجاب ویجیلنس بیورو کے آئی جی ہیں۔ اسی فرضی شناخت کا استعمال کرتے ہوئے، سدھو نے ایک سرکاری ٹیچر کی سروس بک حاصل کی اور اپنے موبائل فون سے اس کے شروعاتی صفحات کی فوٹو کھینچ لی۔
اسی طرح سدھو نے گورنمنٹ سینئر سیکنڈری اسکول گھنور کے پرنسپل کو اسکول کی ای میل آئی ڈی پر درخواست بھیج کر اسکول کے ایک ٹیچر کا ریکارڈ حاصل کیا۔ اسکول سے لیے گئے ان اساتذہ کے ریکارڈ کی تصدیق کے لیے وہ ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر آفیسر کے ہمراہ اسکول پہنچے اور پرنسپل سے دو صفحات کے پروفارمے پر دستخط کرانے کی کوشش کی لیکن پرنسپل نے دستخط کرنے سے انکار کردیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور معاملے میں سدھو نے گروہرسہائے ضلع فیروز پور میں محکمہ زراعت کے ایک بلاک افسر کا ذاتی ریکارڈ حاصل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے جعلی شیڈول کاسٹ سرٹیفکیٹ رکھنے کے لئے اس افسر کے خلاف اپنے محکمے میں شکایت درج کرائی۔ اس شکایت کو واپس لینے کے عوض اس افسر سے تین لاکھ روپے مانگے گئے جس میں سے ڈیڑھ لاکھ روپے غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے۔ اس کے بعد اس تحقیقات کومکمل کرنے کے لیے متاثرہ کو اس کے محکمہ سے مزید وقت دینے کے لیے مذکورہ بلبیر سنگھ اور مالویندر سنگھ سدھو نے 2 لاکھ روپے رشوت وصول کی۔
ترجمان نے کہا کہ مالویندر سنگھ سدھو نے پنجاب ویجیلنس بیورو کے آئی جی کا روپ دھار کر بلبیر سنگھ کے ساتھ مل کر درج فہرست ذاتوں اور مجاہدین آزادی کے محکموں میں بہت سے لوگوں کا ریکارڈ حاصل کیا، جن کے ساتھ اس نے بعد میں ان کے خلاف شکایتیں درج کرائیں اور انہیں بلیک میل کیا۔ شکایات واپس لینے کے عوض رشوت لیتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تفتیش کے دوران ان کے دیگر ساتھیوں کے بھی اس کیس میں ملوث ہونے کا امکان ہے جس کے بارے میں مکمل تفتیش جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
Case of extortion and fraud against AIG of Punjab Police
