پٹنہ، 25 نومبر(ہ س)۔
بہار کے مظفر پور کے بعد اب بیتیا میں بھی دو سال کی بچی کے ساتھ عصمت دری کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کی حالت بدستور تشویشناک ہے۔ اس کا علاج بتیا جی ایم سی ایچ میں جاری ہے۔ ساتھ ہی اس معاملے میں پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید کارروائی میں مصروف ہے۔
پورا واقعہ نوتن تھانہ علاقہ کے ایک گاؤں میں پیش آیا۔ جہاں چھٹھ کے موقع پر لڑکی اپنی ماں کے ساتھ اپنے نانا کے گھر آئی تھی۔ اسی دوران پڑوسی نوجوان منیش کمار لڑکی کو کھلانے کے بہانے باہر لے گیا اور اس کی عصمت دری کی۔ گھر والوں کو اس بات کا علم ہوا تو وہ آناً فاناً میں لڑکی کو اسپتال لے گئے۔ جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واقعہ کے بعد اہل خانہ نے نوتن تھانہ میں ملزم کے خلاف شکایت درج کرائی۔ اس کے بعد پولیس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے ملزم منیش کمار کو گرفتار کر لیا۔ شدید زخمی لڑکی کا علاج بتیا جی ایم سی ایچ میں چل رہا ہے۔ اس واقعہ سے علاقہ میں سنسنی پھیل گئی ہے۔
اس معاملے میں سب ڈویزنل پولیس افسر صدر مہتاب عالم نے بتایا کہ ضلع کے نوتن تھانہ علاقے میں 2 سالہ معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے۔ پولیس نے رات چھاپہ ماری کرکے ملزم کو گرفتار کر کے مزید کارروائی شروع کر دی ہے۔
واضح ہو کہ کل جمعہ کے روز بہار کے مظفر پور سے دو سال کے معصوم بچی کے ساتھ عصمت دری کی خبر سامنے آئی تھی۔ اس واقعے میں لڑکی کی عصمت دری اور قتل بھی کر دیا گیا۔ اب ایک دن بعدبتیا کی اس خبر نے بہار میں لڑکیوں کی حفاظت پر بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ بہار کے کئی اضلاع سے اس طرح کے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں۔ ان واقعات میں پولیس کارروائی بھی کی جاتی ہے لیکن اس طرح کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آئی۔
ہندوستھان سماچار/ افضل
/عطاءاللہ
