بانکا میں چھاپہ ماری کرنے گئی پولیس ٹیم پر پتھراؤ، یرغمال بناکر رائفل چھیننے کی کوشش
بانکا، یکم جنوری (ہ س)۔ بہار کے بانکا میں پولیس پر حملے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ شراب کے خلاف چھاپہ ماری کرنے گئی پولیس ٹیم پر پتھراؤ کیا گیا۔ واقعہ ضلع کے چندن پنچایت کے بابوکورا گاؤں میں اتوار کی رات کو پیش آیا۔ اس دوران پولیس گاڑی کے ڈرائیور کو یرغمال بنالیا گیا۔ وہیں پولیس اہلکار سے رائفل چھیننے کی بھی کوشش کی گئی۔
معلومات کے مطابق اتوار کی دیر رات پولیس شراب کی اطلاع پر چھاپہ ماری کرنے گئی تھی۔ اس دوران مشتعل قبائلی مرد اور خواتین نے پتھراؤ شروع کر دیا۔ ہوم گارڈ جوان کوشل کشور یادو کی رائفل چھیننے کی کوشش کی گئی۔ گاڑی کے ڈرائیور جتیندر کمار یادو کے ساتھ مارپیٹ اور یرغمال بنا لیا۔
سینئر افسر کو واقعہ کی اطلاع دی گئی ہے۔ بیلہر ایس ڈی پی او راج کشور پرساد، آنند پور او پی انچارج سنیل کمار، کٹوریا تھانہ انچارج مہیشور رائے سمیت کئی تھانوں کی پولیس کے آنے کے بعد یرغمالی بنائے گئے اہلکاروں کو آزاد کرایا گیا۔ اس کے بعد پولیس کو فوراً وہاں سے بھاگنا پڑا۔ اس معاملے میں انسپکٹر نے سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
تھانہ انچارج وشنو دیو کمار کے مطابق اس معاملے میں مالتی ہنسدا، رابن مرانڈی، مانیک دیو سورین، سوملال باسکی، برکو مرانڈی، بہادی ہنسدا، ببیتا کسکو، روپ مانی مرانڈی، سملال مرمو، مینو بیسرا، راجیش مرانڈی سمیت بابوورا کے سبھی باشندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ 10-12 نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار/ افضل
/شہزاد
