نئی دہلی، ۔ موجود ہ شوگر مارکیٹنگ سیزن 2023-24 میں ملک میں 29 فروری تک چینی کی پیداوار 255.38 لاکھ ٹن رہی ہے۔ گزشتہ چینی مارکیٹنگ سال میں اس مدت کے دوران 258.48 لاکھ ٹن چینی کی پیداوار ہوئی تھی۔ سالانہ بنیادوں پر 3.1 لاکھ ٹن کی کمی درج کی گئی ہے۔
شوگر ملوں کی تنظیم انڈین شوگر ملز ایسوسی ایشن (اسما) نے پیر کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ شوگر مارکیٹنگ سیزن 2023-24 میں 29 فروری تک 255.38 لاکھ ٹن چینی کی پیداوار ہوئی ہے۔ اس سے پچھلے چینی مارکیٹنگ سال 2022-23 کی اسی مدت میں 258.48 لاکھ ٹن چینی کی پیداوار ہوئی تھی۔ اسما کے مطابق گزشتہ شوگر مارکیٹنگ کے مقابلے میں اب تک 3.1 لاکھ ٹن کم چینی کی پیداوار ہوئی ہے۔
اسما کے مطابق موجودہ شوگر مارکیٹنگ سال میں 29 فروری تک کام کرنے والی شوگر ملوں کی تعداد 466 تھی جب کہ گزشتہ شوگر سیزن کے دوران اسی تاریخ (28 فروری 2023) تک 447 شوگر ملیں کام کر رہی تھیں۔ انڈسٹری باڈی اسما کے مطابق موجودہ سیزن میں مہاراشٹرا اور کرناٹک میں شوگر ملوں کے بند ہونے کی شرح پچھلے سیزن کے مقابلے سست ہے۔ اس سال اب تک ان دونوں ریاستوں میں کل 49 فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، جب کہ گزشتہ سال اسی تاریخ کو 74 فیکٹریاں بند چکی تھیں۔
انڈین شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مطابق مجموعی طور پر، ملک بھر میں 65 شوگر ملوں نے 29 فروری کے اختتام تک اپنے پیرائی کا کام بند کر دیے ہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران یہ تعداد 86 تھی۔اسما کے مطابق، مہاراشٹر موجودہ چینی مارکیٹنگ سال میں چینی کی پیداوار میں ریاستوں میں سرفہرست ہے۔ اس کے بعد اترپردیش دوسرے نمبر پر ہے۔ مہاراشٹر میں اب تک 90.92 لاکھ ٹن چینی کی پیداوار ہوئی ہے، اتر پردیش میں اب تک 78.16 لاکھ ٹن چینی کی پیداوار ہوئی ہے۔
اسما کے مطابق تیسرے نمبر پر کرناٹک آتا ہے، جہاں اب تک 47 لاکھ ٹن چینی کی پیداوار ہوئی ہے۔ اس کے بعد گجرات میں 7.70 لاکھ ٹن چینی، تمل ناڈو میں 5.80 لاکھ ٹن اور دیگر ریاستوں میں بالترتیب 25.80 لاکھ ٹن چینی پیدا ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ انڈسٹری باڈی کے مطابق، ریاستوں میں گنے کی کرشنگ کی تکمیل پچھلے شوگر مارکیٹنگ سال کے مقابلے موجودہ شوگر مارکیٹنگ سال میں زیادہ ہو سکتی ہے۔
