ملک کی صنعتی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی بنیادی وجہ کان کنی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کی کمزور کارکردگی ہے۔ دسمبر 2024 میں صنعتی پیداوار کی شرح نمو گھٹ کر 3.2 فیصد رہ گئی، جو پچھلے تین ماہ کی کم ترین سطح ہے۔ یہ شرح دسمبر 2023 میں 4.4 فیصد تھی۔ قومی شماریاتی دفتر (این ایس او) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مینوفیکچرنگ، کان کنی اور پاور سیکٹر میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں بھی صنعتی ترقی کی رفتار سست رہی ہے۔
BulletsIn
- دسمبر 2024 میں صنعتی پیداوار کی نمو 3.2 فیصد رہی، جو تین ماہ کی کم ترین سطح ہے
- نومبر 2024 کے لیے صنعتی پیداوار کے اعداد و شمار کو 5 فیصد پر نظرثانی کیا گیا، جو پہلے 5.2 فیصد بتایا گیا تھا
- دسمبر 2024 میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کی پیداوار میں صرف 3 فیصد اضافہ ہوا، جو دسمبر 2023 میں 4.6 فیصد تھا
- کان کنی کے شعبے کی پیداوار کی شرح نمو کم ہو کر 2.6 فیصد رہ گئی، جبکہ دسمبر 2023 میں یہ 5.2 فیصد تھی
- پاور سیکٹر کی پیداوار میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی، جو 6.2 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ دسمبر 2023 میں یہ صرف 1.2 فیصد تھی
- صنعتی پیداوار کے اشاریہ (IIP) کے مطابق دسمبر 2024 میں مجموعی صنعتی پیداوار کی رفتار سست رہی
- قومی شماریاتی دفتر کے مطابق موجودہ مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں صنعتی پیداوار کی مجموعی شرح نمو 4 فیصد رہی
- پچھلے مالی سال کے اسی عرصے میں صنعتی پیداوار کی نمو 6.2 فیصد تھی، جو اس سال کی کارکردگی سے بہتر تھی
- صنعتی پیداوار میں کمی کی بنیادی وجوہات میں عالمی اقتصادی حالات اور ملکی سطح پر پیداواری چیلنجز شامل ہیں
- معیشت کے استحکام کے لیے صنعتی ترقی میں تیزی لانے کے اقدامات ضروری ہیں، تاکہ طویل مدتی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے
