امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی برآمدات پر محصولات دگنے کر کے 50 فیصد کر دیے ہیں۔ اسی دوران وزیرِاعظم نریندر مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی پچیسویں سربراہ کانفرنس میں اہم تقریر کی۔ ایک طرف یہ فیصلہ بھارت کی معیشت کو فوری جھٹکا دیتا ہے، تو دوسری طرف مودی کی تقریر بھارت کی طویل المدتی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ دونوں واقعات بدلتی عالمی سیاست میں بھارت کے مشکل توازن کی عکاسی کرتے ہیں۔
BulletsIn
-
امریکی محصولات میں اضافہ – زیورات، ٹیکسٹائل، مچھلی، کیمیکلز اور مشینری سب متاثر۔
-
فوری معاشی اثرات – سورت کے ہیروں کے کارخانے بند، تروپور کے پاورلوم رکے، کیرالہ و آندھرا کے ماہی گیر خریداروں سے محروم۔
-
برآمدات میں کمی کا خدشہ – تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کو برآمدات 40٪ سے زیادہ کم ہو سکتی ہیں، چھوٹے برآمد کنندگان کے لیے بقا کا مسئلہ۔
-
مودی کا SCO میں پیغام – بھارت کے کردار کو تین ستونوں پر پیش کیا: سکیورٹی، کنیکٹیویٹی، اور مواقع۔
-
سکیورٹی – پاہلگام حملے کی مثال دے کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ موقف اور دوہرے معیار سے اجتناب پر زور۔
-
کنیکٹیویٹی – چاہ بہار بندرگاہ اور شمال-جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور پر روشنی ڈالی؛ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے پر بالواسطہ تنقید۔
-
مواقع – نوجوانوں، ڈیجیٹل شمولیت، اسٹارٹ اپس اور مشترکہ تہذیبی ورثے کو اجاگر کیا؛ تہذیبی مکالمے کا فورم تجویز کیا۔
-
عالمی ردعمل – چین نے اسے اپنے پلیٹ فارم کے لیے مثبت سمجھا، روس کو سہارا ملا، امریکا نے بھارت کے ماسکو و بیجنگ سے قریب ہونے پر تشویش ظاہر کی۔
-
یورپی نقطہ نظر – بھارت کے کثیر قطبی کردار کو سراہا لیکن روس سے قربت پر بے چینی۔
-
چیلنج اور مستقبل – قلیل مدتی طور پر روزگار و برآمدات کو دھچکا، طویل مدتی طور پر نئی منڈیوں تک رسائی، وسطی ایشیا و افریقہ سے تعلقات، اور بھارتی نوجوانوں کے لیے مواقع۔
