مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع میں فرقہ وارانہ تشدد کے بارے میں گورنر ڈاکٹر سی وی آنند بوس کی جانب سے مرکزی وزارت داخلہ کو بھیجی گئی رپورٹ میں دفعہ 356 کو نافذ کرنے کی سفارش پر سیاسی ہنگامہ آرائی تیز ہوگئی ہے۔ اس معاملے پر حکمراں ترنمول کانگریس کو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) سے غیر متوقع حمایت حاصل ہوئی ہے۔ رپورٹ میں گورنر نے ریاستی حکومت کی امن و امان کو برقرار رکھنے میں ناکامی کو اجاگر کیا ہے، جس پر مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی رائے پیش کی ہے۔
BulletsIn
-
مغربی بنگال کے گورنر ڈاکٹر سی وی آنند بوس نے مرکزی وزارت داخلہ کو رپورٹ بھیجی جس میں دفعہ 356 نافذ کرنے کی سفارش کی گئی۔
-
رپورٹ میں کہا گیا کہ مغربی بنگال حکومت فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
-
گورنر نے پولیس ڈھانچے میں کمی اور وسائل کی قلت کو نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی فورسز کی متواتر تعیناتی ضروری ہے۔
-
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) نے گورنر کی رپورٹ کی حمایت کی اور کہا کہ ریاستی حکومت کا اقتدار چھیننے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
-
سی پی آئی (ایم) کے رہنما محمد سلیم نے کہا کہ صدر راج سے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے، نہ کہ کمی۔
-
محمد سلیم نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ صدر راج سے مسائل مزید بڑھتے ہیں، جیسے کشمیر اور منی پور میں ہوا۔
-
ترنمول کانگریس نے گورنر کی رپورٹ پر شدید اعتراض کیا اور اسے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ قرار دیا۔
-
ترنمول کے رہنما سووندیب چٹوپادھیائے نے الزام عائد کیا کہ گورنر کی سفارشات مرکزی حکومت کی ہدایات پر تیار کی گئی تھیں۔
-
ترنمول کانگریس کے رہنماؤں نے کہا کہ گورنر کی رپورٹ جانبدارانہ ہے اور اس میں صرف منفی پہلوؤں پر زور دیا گیا ہے۔
-
گورنر نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مغربی بنگال کی حکومت بائیں بازو کی انتہا پسندی کو قابو پانے میں کامیاب رہی ہے، لیکن فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے میں ناکام رہی۔
