کسانوں نے شمبھو بارڈر پر جاری احتجاج کو ختم کرتے ہوئے دہلی کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہے۔ یہ مارچ گرو تیغ بہادر جی کے یوم شہادت کے موقع پر کیا جا رہا ہے۔ احتجاج 297 دنوں سے جاری ہے اور کسانوں نے اپنے مطالبات کے حوالے سے حکومتی بے حسی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ دہلی کوچ کے لیے کسان لیڈرز نے مکمل تیاری کا اعلان کیا ہے جبکہ پولیس نے حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں۔
BulletsIn
- کسان 297 دنوں سے شمبھو بارڈر پر احتجاج کر رہے ہیں۔
- گرو تیغ بہادر جی کے یوم شہادت پر دہلی کی طرف مارچ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
- 101 کسان اور مزدور دہلی کوچ میں شامل ہوں گے۔
- کسانوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 10 مہینوں میں ان کی بات نہیں سنی گئی۔
- کسان لیڈر سرون سنگھ پندھیر نے دہلی مارچ کو کسانوں کا اگلا قدم قرار دیا۔
- ہریانہ کی کھاپ پنچایتیں اور کاروباری تنظیمیں کسانوں کے ساتھ ہیں۔
- پولیس نے پنجاب اور ہریانہ کی سرحد کو سیل کر دیا ہے۔
- ڈی جی پی ہریانہ نے سرحدی اضلاع کے پولیس سپرنٹنڈنٹس کے ساتھ میٹنگ کی۔
- کسان دوسرے راستوں سے بھی دہلی کی طرف مارچ کر سکتے ہیں۔
- پولیس نے تمام سرحدی اضلاع میں الرٹ جاری کر دیا ہے۔
