پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی کال پر 24 نومبر کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر مظاہرے کا اعلان کیا گیا۔ احتجاج کے لیے پی ٹی آئی کارکنان اور حامی ملک بھر سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، تاہم ڈی چوک اب بھی سخت سیکورٹی انتظامات اور رکاوٹوں کے سبب چھاؤنی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اس دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔
BulletsIn
- عمران خان کی اپیل پر 24 نومبر کو ڈی چوک پر احتجاج کے لیے پی ٹی آئی کا ملک گیر مارچ جاری ہے۔
- سابق وزیراعظم عمران خان نے جیل سے عوام کو احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔
- ڈی چوک کے اردگرد سخت حفاظتی انتظامات کے تحت پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری تعینات ہیں۔
- اسلام آباد کی اہم شاہراہوں پر کنٹینرز لگا دیے گئے، جس سے آمدورفت متاثر ہے۔
- خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں قافلے پر آنسو گیس کے گولے داغے گئے، تاہم قافلہ غازی بروتھا پل عبور کرنے میں کامیاب رہا۔
- احتجاج کے باعث پاکستان کو روزانہ 190 ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تصدیق کی۔
- پی ٹی آئی کے کارکن سردی سے بچنے کے لیے غازی بروتھا کے قریب جھاڑیاں جلا کر خود کو گرم کر رہے ہیں۔
- امریکہ کے مختلف شہروں میں عمران خان کی حمایت میں ریلیاں منعقد کی گئیں، جن میں بڑی تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی۔
- مظاہرین نے عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی، 26ویں آئینی ترمیم کی منسوخی، اور جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
- اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے علی الصبح کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا۔
