ڈھاکہ، 3 اگست . بنگلہ دیش میں ایک بار پھر ریزرویشن کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ یہ احتجاج وزیر اعظم شیخ حسینہ اور ان کی حکومت کے خلاف ہو رہے ہیں۔ حالیہ مظاہرے میں 200 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد متاثرین کے لیے انصاف کی مانگ کی جا رہی ہے۔
BulletsIn
- بنگلہ دیش میں ریزرویشن کے خلاف مظاہرے دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔
- مظاہرے وزیر اعظم شیخ حسینہ اور ان کی حکومت کے خلاف ہیں۔
- حالیہ مظاہرے 200 سے زائد ہلاکتوں کے بعد متاثرین کے لیے انصاف کی مانگ پر ہو رہے ہیں۔
- ڈھاکہ کے مختلف علاقوں میں دو ہزار سے زائد مظاہرین جمع ہوئے۔
- مظاہرین نے ’’آمر مردہ باد‘‘ اور انصاف کے نعرے لگائے۔
- پولیس اہلکار مظاہرین کے گرد دائرے میں کھڑے رہے۔
- ڈھاکہ کے اترا علاقے میں پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
- پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور اسٹن گرینیڈ فائر کیے۔
- وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کو طلبہ کے احتجاج کا سامنا ہے۔
- 15 جولائی کو شروع ہونے والے تشدد کے بعد حکومت نے انٹرنیٹ بند کر دیا اور کرفیو نافذ کر دیا۔
- اسکول اور یونیورسٹیاں بند ہیں اور دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
