بنگلہ دیش میں ریزرویشن سسٹم کے خلاف طلبہ کے مظاہروں میں پرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں 150 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ احتجاج کے دوران ملکی سطح پر فوج طلب کی گئی اور سرکاری اداروں کو نقصان پہنچا ہے۔ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے ملک بھر میں سوگ منانے کا اعلان کیا ہے اور تمام مذہبی اداروں سے دعائیہ اجتماعات کی اپیل کی گئی ہے۔
BulletsIn
- بنگلہ دیش کی حکومت نے پیر کو ریزرویشن سسٹم کے خلاف مظاہروں کے دوران 150 ہلاکتوں کی تصدیق کی۔
- مظاہروں کی شدت کے باعث فوج اور نیم فوجی دستے دارالحکومت ڈھاکہ میں تعینات کر دیے گئے۔
- مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے اور سرکاری اداروں کو نقصان پہنچا۔
- وزیراعظم شیخ حسینہ نے ملک بھر میں سوگ منانے کا اعلان کیا اور سیاہ بیجز پہننے کی درخواست کی۔
- تمام مذہبی اداروں سے مہلوکین اور زخمیوں کے لیے دعائیہ اجتماعات کرنے کی اپیل کی گئی۔
- وزیر داخلہ اسد الزماں خان کمال نے مظاہروں کے دوران 150 ہلاکتوں کی تصدیق کی۔
- احتجاج کرنے والے طلبہ کے گروپ نے نئے احتجاج کی کال دی ہے جبکہ چھ کوآرڈینیٹرز نے احتجاج سے دستبرداری کا اعلان کیا۔
- دستبردار طلبہ رہنماؤں نے کہا کہ پولیس حراست میں دباؤ کے تحت فیصلہ کیا گیا۔
- عدالتی حکم کے تحت حکومت نے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں 93 فیصد نوکریاں میرٹ کی بنیاد پر فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
- ”پروتھوم ایلو” اخبار نے 210 اموات کی اطلاع دی ہے جن میں 113 بچے شامل ہیں اور 9 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
