ایک نئی عرضی سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے جس میں کانوڑ یاترا کے راستے پر دکانوں پر نام کی تختیاں لگانے کے معاملے میں حلال اور جھٹکا گوشت کے بارے میں وضاحت طلب کی گئی ہے۔ ایڈوکیٹ سنجیو کمار نے اس عرضی میں مختلف ریاستی حکومتوں کو ہدایت دینے کی درخواست کی ہے کہ وہ اپنے ریستورانوں میں پیش کیے جانے والے گوشت کے بارے میں واضح کریں کہ آیا وہ حلال ہے یا جھٹکا۔ اس عرضی میں فوڈ ڈیلیوری ایپس کو بھی شامل کیا گیا ہے اور اس معاملے کو آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے۔
BulletsIn
- عرضی دائر کرنے والا: ایڈوکیٹ سنجیو کمار نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔
- ریاستی حکومتوں کی شمولیت: عرضی میں یوپی، اتراکھنڈ اور مدھیہ پردیش حکومتوں کو ہدایت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔
- ریستورانوں میں وضاحت کی درخواست: ریستورانوں کو واضح طور پر بتانے کو کہا گیا ہے کہ جو گوشت پیش کیا جا رہا ہے وہ حلال ہے یا جھٹکا۔
- فوڈ ڈیلیوری ایپس کا ذکر: سویگی اور زومیٹو جیسی فوڈ ڈیلیوری ایپس کو بھی اس وضاحت میں شامل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
- آئینی دفعات کی خلاف ورزی: عرضی میں دفعہ 17، دفعہ 19(1) (جی) اور دفعہ 15 کی خلاف ورزی کا حوالہ دیا گیا ہے۔
- عدالتی احکامات کی درخواست: عدالت سے احکامات جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے کہ جو ریستوران جھٹکا گوشت کی معلومات فراہم نہیں کریں گے وہ آئینی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔
- کانوڑ یاترا کے راستے پر دکانیں: یہ معاملہ کانوڑ یاترا کے راستے پر دکانوں پر نام کی تختیاں لگانے کے حوالے سے ہے۔
- عرضی میں خود کو فریق بنانے کی درخواست: درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں خود کو فریق بنائے۔
- زیر التوا درخواستوں کے ساتھ سماعت: عدالت سے پہلے سے زیر التوا درخواستوں کے ساتھ اس معاملے کو سننے کی درخواست کی گئی ہے۔
- آئینی حقوق کی حفاظت: عرضی میں آئینی حقوق کی حفاظت کے لیے یہ وضاحت طلب کی گئی ہے کہ لوگوں کو پیش کیا جانے والا گوشت حلال ہے یا جھٹکا۔
