فرانس میں 72 سالہ سیاست دان ژاں لاک میلنشان وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے لیے کوشاں ہیں۔ میلنشان نے اپنے سیاسی کیریئر کے دوران مختلف جماعتوں میں شمولیت اختیار کی اور اب وہ نیو پاپولر فرنٹ (NPF) کے رہنما ہیں، جو بائیں بازو کی جماعتوں کا اتحاد ہے۔ ان پر اسرائیل مخالف اور یہود دشمن ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے، جبکہ وہ فلسطینی ریاست کی حمایت کرتے ہیں اور اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کے حامی ہیں۔
BulletsIn
- ژاں لاک میلنشان فرانس کے وزارت عظمیٰ کے امیدواروں میں شامل ہیں۔
- میلنشان پر یہودی کمیونٹی کی جانب سے اسرائیل مخالف اور یہود دشمن ہونے کا الزام ہے۔
- وہ حماس تنظیم کی مذمت کو مسترد کرتے ہیں اور اسرائیل پر اجتماعی نسل کشی کا الزام لگاتے ہیں۔
- ان کی جماعت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے اور اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کی حامی ہے۔
- میلنشان نے اپنے سیاسی کیریئر میں کمیونسٹ اور سوشلسٹ پارٹیوں میں شمولیت اختیار کی۔
- 2016 میں انہوں نے انتہائی بائیں بازو کی جماعت La France Insoumise (LFI) تشکیل دی۔
- میلنشان تین مرتبہ صدارتی امیدوار رہ چکے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہو سکے۔
- وہ نیو پاپولر فرنٹ (NPF) کے رہنما ہیں، جو پارلیمان میں سب سے بڑا بلاک ہے۔
- میلنشان نیٹو سے فرانس کے انخلا اور جوہری طاقت کے مخالف ہیں۔
- انہوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن، وینزویلا کے صدر نکولاس ماڈورو، اور سابق صدر ہوگو شاویز کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔
