مالی سال 2023-24 میں ہندوستان کی سمندری خوراک کی برآمدات نے تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ مقدار کے لحاظ سے برآمدات میں تین فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ قدر کے لحاظ سے اس میں تقریباً آٹھ فیصد کمی آئی ہے۔ اس عرصے میں 17,81,602 ٹن سمندری خوراک برآمد کی گئی جس کی مجموعی قیمت 7.38 بلین ڈالر ہے۔ منجمد کیکڑے برآمدات میں سب سے آگے رہے، اور امریکہ اور چین بڑے درآمد کنندگان میں شامل ہیں۔ تاہم، یورپی یونین اور برطانیہ جیسی بڑی برآمدی منڈیوں میں کئی چیلنجز کا سامنا رہا۔
BulletsIn
- سمندری خوراک کی برآمدات میں اضافہ: مالی سال 2023-24 میں سمندری خوراک کی برآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
- مقدار میں اضافہ: مقدار کے لحاظ سے برآمدات میں تین فیصد اضافہ ہوا اور یہ 17,81,602 ٹن ہو گئیں۔
- قدر میں کمی: قدر کے لحاظ سے برآمدات میں تقریباً آٹھ فیصد کمی آئی اور مجموعی مالیت 7.38 بلین ڈالر رہی۔
- منجمد کیکڑے سب سے زیادہ برآمد کیے گئے: منجمد کیکڑوں کی برآمدات 4.88 بلین ڈالر رہیں، جو برآمدات میں سرفہرست ہیں۔
- فروزن مچھلی دوسری بڑی برآمد: فروزن مچھلی کی برآمدات 6.71 بلین ڈالر رہی، جو حجم میں 21.42 فیصد اور ڈالر کی آمدنی میں 9.09 فیصد حصہ رکھتی ہیں۔
- بلیک ٹائیگر جھینگا کی برآمد میں نمو: بلیک ٹائیگر جھینگے کی برآمد میں بھی اچھی نمو دیکھی گئی ہے۔
- امریکہ اور چین بڑی منڈیاں: امریکہ اور چین ہندوستان کی سمندری خوراک کی بڑی درآمدی منڈیاں ہیں۔
- یورپی یونین اور برطانیہ میں چیلنجز: بڑی برآمدی منڈیوں جیسے یورپی یونین اور برطانیہ میں کئی چیلنجز کا سامنا رہا۔
- مالی سال 2022-23 کے اعداد و شمار: پچھلے مالی سال میں برآمدات کی مقدار 17,35,286 ٹن تھی اور اس کی مالیت آٹھ بلین ڈالر تھی۔
- ایم پی ای ڈی اے کی رپورٹ: میرین پراڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم پی ای ڈی اے) نے برآمدات کی مقدار کو سب سے زیادہ قرار دیا ہے۔
