اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کے درمیان 7 اکتوبر کے حملے کے بارے میں ایک خفیہ دستاویز سے انکشافات سامنے آئی ہیں، جس کے مطابق فوج اور انٹیلی جنس کو اس حملے کے بارے میں پہلے سے علم تھا، اور اس پر مکمل تفصیلات انہیں تین ہفتے قبل ہی دی گئی تھیں۔ اس وقت کی خبریں مظاہرہ کرتی ہیں کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اس حملے کو روکنے میں ناکامی کا سامنا کیا، اور اس پر سپریم کورٹ نے تحقیقات کی معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس حوالے سے معاملات میں گڈ گورننس مانیٹرنگ گروپوں نے بھی سپریم کورٹ میں اپنی درخواست دائر کی ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ ایسا فیصلہ اسٹیٹ کنٹرولر کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس وقت کے اسرائیلی سیاسی ماحول میں یہ تحقیقات اور ابتدائی دستاویزات ایک بڑا موضوع بن سکتے ہیں، جہاں اسرائیلی حکومت اور فوج کے درمیان تنازعات بڑھ رہے ہیں۔
BulletsIn
- اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کو 7 اکتوبر کے حملے کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔
- انٹیلی جنس کی اعلیٰ سطح کو حملے سے قبل بھی اس کی تفصیلات کا علم تھا۔
- سپریم کورٹ نے ایک عارضی حکم نامہ جاری کیا جس میں سکیورٹی اداروں کی ناکامی کی تحقیقات کو معطل کر دیا گیا۔
- اسرائیلی فوج اور جنرل سکیورٹی سروس کو حملے روکنے میں ناکام قرار دیا گیا۔
- گڈ گورننس مانیٹرنگ گروپوں نے سپریم کورٹ میں تحقیقات کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔
- آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف نے بھی غزہ کی پٹی پر جنگ جاری رہنے تک تحقیقات کی مخالفت کی ہے۔
- حملے کے بعد اسرائیلی حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات میں تناو کا سامنا ہو رہا ہے
