رائے پور ۔
سابق وزیر اعلیٰ اور راج نندگاو¿ں پارلیمانی حلقہ سے کانگریس کے امیدوار بھوپیش نے کہا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ریاست کی بی جے پی حکومت کے کرتوتوں کو چھپاتے ہوئے بڑا جھوٹ بول کر خیر گڑھ میں انتخابی میٹنگ میں گئے۔ انہوں نے مہادیو ایپ کے بارے میں بہت باتیں کیں لیکن یہ نہیں بتایا کہ اب جب ڈبل انجن والی حکومت ہے تو مہادیو ایپ کیوں چل رہی ہے؟ انہیں بتانا چاہئے کہ مہادیو ایپ چلانے والوں سے بی جے پی نے کتنا انتخابی چندہ لیا ہے ۔
بھوپیش نے کہا ہے کہ کانگریس حکومت نے مہادیو ایپ پر کارروائی کی تھی اور مرکز کی بی جے پی حکومت سے مہادیو ایپ کو بند کرنے اور اس کے چلانے والوں کو گرفتار کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن گرفتاری تو دور کی بات، مرکزی حکومت نے مہادیو ایپ کو بند بھی نہیں کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ مہادیو سٹہ ایپ ابھی تک بغیر کسی رکاوٹ کے چل رہی ہے، پھر بی جے پی نے ان سے کتنا چندہ لیا؟ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی سیاسی طور پر لڑنے کے قابل نہیں ہے تو وہ غیر ضروری الزامات لگا کر کانگریس کو بدنام کرنے کی سازش رچ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذہب کی بات کرنے والے امت شاہ بتائیں کہ کیا ان کی پارٹی کی حکومت نے گائے کی دیکھ بھال کے لیے بنائے گئے گوٹھان کوکیوں بند کیا؟ گائے کے گوبر کی خریداری کیوں رکی؟ اور کیا وجہ ہے کہ بی جے پی کی حکومت بنتے ہی گائے کی اسمگلنگ شروع ہوگئی؟ اور گائے کی اسمگلنگ اس راج نندگاو¿ں ضلع کے باغ ندی کی سرحد سے ہو رہی ہے۔ امت شاہ کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ اگر وہ اتنے ہی گائے کے محافظ ہیں تو ان کی پارٹی نے بیف پروسیسنگ کمپنی سے کروڑوں روپے کا چندہ کیوں لیا؟
امت شاہ پر ہر طرح کا جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے گنگا کا پانی ہاتھ میں لے کر کسانوں سے قرض معافی اور 2500 روپے فی کوئنٹل دینے کا وعدہ کیا تھا اور ہم نے اسے وقت پر پورا کیا۔ بھوپیش نے کہا کہ یا تو ریاستی بی جے پی لیڈر امت شاہ کو سچ نہیں بتا رہے ہیں یا پھر امت شاہ عادتاً جھوٹ بول رہے ہیں۔
