سپریم کورٹ کی بڑی بنچ نائیڈو کی درخواست پر فیصلہ کرے گی
وجے واڑہ، 16 جنوری (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے آندھرا پردیش کے سابق وزیراعلیٰ این چندرابابو نائیڈو کی جانب سے ہنرمندی کے فروغ کے مراکزکے قیام میں 3300 کروڑ روپے کے مبینہ گھپلے میں درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواست پر منگل کو منقسم فیصلہ سنایا۔ جسٹس انیرودھ بوس اور بیلا ایم ترویدی کی بنچ نے حکم دیا کہ کیس کو عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کے پاس بھیج دیا جائے تاکہ 2018 کے انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 17 اے کے اطلاق کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے ایک بڑی بنچ کی تشکیل کی جائے۔
مسٹر نائیڈو کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل سدھارتھ لوتھرا نے استدلال کیا تھا کہ 1988کے انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 17-اے کے26 جولائی 2018 کو ترمیم شدہ ایکٹ کے تحت لازمی منظوری کے بغیران کے کیس میں تحقیقات شروع کرنا اورمقدمہ درج کرنا نامناسب ہے۔ جسٹس بوس نے حکم سناتے ہوئے کہا کہ اگر سیکشن 17 اے کے تحت مجاز اتھارٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر کوئی انکوائری اور تحقیقات شروع کی جاتی ہے تواسے غیرقانونی تصورکیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر نائیڈو کے معاملے میں ان کا حکم لیڈرکے خلاف منظوری حاصل کرنے کا موقع ختم نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حراست کے حکم اورگرفتاری کوغیر قانونی قرارنہیں دیا جا سکتا۔
جسٹس ترویدی نے اپنی طرف سے کہا کہ ترمیمی ایکٹ 2018 کا استعمال نئے التزامات کو نافذ کرنے کے لئے نوٹیفائڈ 26 جولائی 2018 کی تاریخ سے پہلے کے جرائم کے لیے حکام کی لازمی منظوری حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا جا سکتا۔ ترمیمی ایکٹ 2018 کو ممکنہ طور پر نافذ کیاجائے گا، نوٹیفکیشن کی تاریخ سے پہلے ہونے والے جرائم پرنہیں۔ہندوستھان سماچار
/شہزاد
