نئی دہلی ، 25 دسمبر (ہ س)۔
چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے پونچھ حملے میں قربانی پیش کرنے والے فوجیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے بڑا کوئی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے احاطے میں پہلی بار کرسمس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے حال ہی میں اپنے چار فوجیوں کو کھو دیا۔ آج جب ہم کرسمس منا رہے ہیں، ہمیں اپنے فوجیوں کو نہیں بھولنا چاہئے جو سرحد پر موجود ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سب کی مقدس ترین کتاب ملک کا آئین ہے۔ آئین ہمیں سکھاتا ہے کہ ملک کے شہری ہونے کے ناطے ہم سب ایک ہیں اور ہمیں ملک کو بہتر بنانا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کرسمس مناتے ہوئے ہمیں ان ڈاکٹروں اور نرسوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو شدید بیمار مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے گھر والوں کے ساتھ نہیں ہیں۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ اس موقع پر ہم اپنے خاندان کے ساتھ ہیں۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے وکلا پر زور دیا کہ وہ غیر ضروری طور پر سماعت ملتوی کرنے کا مطالبہ نہ کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں عوام کی ضروریات کو سمجھنا ہوگا۔ جب بہت ضروری ہو تو کیس کو ملتوی کرنے کی درخواست کرنا سمجھ میں آتا ہے ، لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں معاشرے کو یہ پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے کام میں سنجیدہ ہیں۔ ہم سماج میں بے وجہ ہنسی کا سامان نہیں بننا چاہئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رواں سال ہم وکلاءکی مدد سے 52 ہزار مقدمات نمٹانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ بار کے تعاون کے بغیر اتنے مقدمات کا تصفیہ ممکن نہ تھا۔ اگلے سال ہمارا مقصد اور بھی زیادہ کیسز کو حل کرنا ہے۔
ہندوستھان سماچارمحمدخان
