پٹنہ، 17 دسمبر(ہ س)۔ سر خیو ں میں رہے برہمیشور مکھیا قتل معاملہ میں سابق قانون ساز کونسلر اور ایل جے پی آر لیڈر ہلاس پانڈے کو نامزد ملزم بنایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ 7 دیگر افراد کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ سی بی آئی نے ہفتہ کے روز آرہ سول کورٹ میں 8 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے ۔ ہلاس پانڈے کو نامزد ملزم بنائے جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں سرگرمی بڑھ گئی ہے۔ وہ فی الحال چراغ پاسوان کی پارٹی ایل جے پی آر کے پارلیمانی بورڈ کے ریاستی صدر ہیں۔
سی بی آئی نے مکھیا قتل معاملے سے متعلق اہم دستاویزات کے ساتھ اس ضمنی چارج شیٹ کو آرہ کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے سیشن جج -3 کو پیش کیا ہے۔ جس میں سی بی آئی نے ہلاس پانڈے ، ابھے پانڈے ، نند گوپال پانڈے عرف فوجی ، رتیش کمار عرف مونو ، امیتیش کمار عرف گڈو پانڈے ، پرنس پانڈے ، بالیشور پانڈے اور منوج رائے عرف منوج پانڈے کے نام شامل کیے ہیں ۔
جون 2012 میں برہمیشور ناتھ سنگھ عرف برہمیشور مکھیا کو آرہ میں قتل کر دیا گیا تھا۔ سی بی آئی کی چارج شیٹ کے مطابق ہلاس پانڈے کے ساتھ سات دیگر ملزمین نے ان کا قتل کیا تھا۔ یکم جون 2012 کو تمام ملزمین صبح 4 بجے آرہ کے نوادہ تھانہ علاقے کے کٹیرا موڑ پر جمع ہوئے اور جب برہمیشور مکھیا صبح کی سیر کے دوران اپنی رہائش گاہ کی گلی کے قریب پہنچے تو انہوں نے اسے گولی مار دی۔ سی بی آئی کے مطابق اسے دیسی ساختہ پستول سے چھ گولیاں ماری گئیں ۔
برہمیشور مکھیا کے قتل کے بعد ان کے حامیوں میں کافی غصہ ہے۔ آرہ سے پٹنہ تک ان کی ارتھی جلوس میں شریک حامیوں نے انتقام کے جذبے میں کئی مقامات پر تشدد اور آتش زنی کی۔ جس کے بعد اس وقت کی حکومت نے اس قتل کے ایک سال بعد یعنی 2013 میں کیس کو غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو سونپ دیا۔
برہمیشور مکھیا کے قتل سے متعلق ایف آئی آر نوادہ تھانے میں درج کی گئی تھی۔ جس کا ایف آئی آر نمبر 139/2012 ہے ۔ اس ایف آئی آر میں نامعلوم افراد کے خلاف مجرمانہ سازش اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ حکومت کی جانب سے اس قتل کا معاملہ سی بی آئی کو سونپنے کے بعد سی بی آئی نے اس کی بہت گہرائی سے تفتیش کی ، جبکہ سی بی آئی نے ایک پوسٹر بھی جاری کیا اور برہممیشور مکھیا قتل معاملے سے متعلق سراغ اور معلومات فراہم کرنے پر 10 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا۔
ہندوستھان سماچار/ افضل/سلام
