گنی میں جیل پر حملہ کرکے مسلح حملہ آوروں نے کی تابڑتوڑ فائرنگ، 9 کی موت
۔ سابق صدر موسیٰ داديس کاماراکو جیل سے کرایا رہا، پھر ہوئے گرفتار
گنی، 7 نومبر ۔ افریقی ملک گنی کی راجدھانی کروناکی میں واقع جیل میں مسلح حملہ آوروں نے زبردست فائرنگ کی جس میں 9 افراد ہلاک ہوگئے۔ اس حملے کے بعد جیل میں بند سابق صدر موسیٰ دادیس کامارا اور دیگر اہلکار جیل سے فرار ہو گئے۔
وزارت قانون نے ایک سرکاری رپورٹ میں کہا کہ تین حملہ آوروں، چار فوجیوں اور دو دیگر کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ سے چھ دیگر افراد شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
جیل حکام نے بتایا کہ حملہ آوروں کی دراندازی کے بعد فوجیوں نے گھروں اور کاروں کی تلاشی لی۔ سابق فوجی رہنما موسیٰ داديس کامارا اور فرار ہونے والے دو اہلکار کو تلاش کرلیا اور انہیں دارالحکومت کی کوناکری سینٹرل ہاؤس جیل میں واپس ڈال دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جیل سے فرار ہونے والے دیگر اہلکاروں کی تلاش جاری ہے۔
جیل میں مسلح بدمعاشوں کی ان جھڑپوں نے گنی میں سیکورٹی کی نازک صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے۔ گنی پر 2021 سے فوجی جنٹا کی حکومت ہے، دو سال قبل جنٹا نے گنی پر قبضہ کر لیا تھا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ گزشتہ تین سالوں میں مغربی اور وسطی افریقہ کے آٹھ ممالک پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔
بتا دیں کہ کامارا نے 2008 میں گنی میں فوجی بغاوت کی قیادت کی تھی اور دسمبر 2009 تک تقریباً ایک سال تک گنی پر حکومت کی تھی۔ ان کے خلاف گزشتہ سال سے مقدمہ چل رہا ہے۔ کمارا پر دوسروں کے ساتھ اسٹیڈیم میں قتل عام اور گنی کی سکیورٹی فورسز کے ذریعے اجتماعی عصمت دری کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے۔
