گوپال گنج، 5 نومبر(ہ س)۔
بہار کے گوپال گنج ضلع میں ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ دراصل ضلع کے اونچکاگاؤں تھانہ علاقہ واقع کھیت میں قتل کرکے دفن کئے گئے ایک نوجوان کی لاش پولیس نے برآمد کی ہے۔ پولیس نے لاش کا پوسٹ مارٹم کروا کر ورثاء کے حوالے کر دیا۔ مقتول کی شناخت 40 سالہ ہری لال پرساد چودھری کے طور پر ہوئی ہے جو اونچکاگاؤں تھانہ علاقہ کے لوہسی گاؤں کا رہنے والا ہے۔
اس معاملے میں پولیس نے ایک خاتون سمیت تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار نوجوان سے سختی سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ پولیس کی تفتیش کے دوران ملزم نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے لاش کے بارے میں پولیس کوبتایا۔ ان کی نشاندہی پر پولیس نے لوہسی گاؤں کے قریب واقع کھیت قریب گڑھا کھود کر اس میں دبی لاش کو باہر نکالا۔
گرفتار ملزم نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ مقتول ہری لال میاں بیوی کی سوتے ہوئے فحش ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرتا تھا۔ بتایا کہ ملزم کا ایک کھجور والا مکان تھا جس میں میاں بیوی سوتے تھے۔ گرفتار ملزم میں خاتون ، اس کا شوہر اور دیور شامل ہے۔
اس حوالے سے مقتول ہری لال پرساد چودھری کے بھائی ونود کمار یادو نے بتایا کہ وہ پیشے سے کسان تھے۔ گزشتہ روز یکم نومبر کو رات کا کھانا کھانے کے بعد میں گھر سے کچھ فاصلے پر واقع اپنے بستر پر سو گیا لیکن صبح تک نہیں پہنچا۔ جس کے بعد گھر والوں نے موبائل پر کال کی لیکن موبائل بند بتایا۔ گھر والے جب باتھن گئے تو دیکھا کہ اس کی موٹر سائیکل وہاں موجود تھی لیکن وہ غائب تھے۔
ہری لال کا کوئی سراغ نہیں ملا جس کے بعد گھر والے پریشان ہونے لگے۔ رات تک گھر نہ پہنچنے پر اہل خانہ نے مقامی تھانے میں تحریری درخواست دے کر مقدمہ درج کرایا۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ کی تفتیش شروع کردی اور مقتول کی کال ڈیٹیل کی بنیاد پر اس کے ہی گاؤں کے رہائشی نوجوان کو گرفتار کرلیا۔ جس کے بعد سارا معاملہ سامنے آیا۔
ہندوستھان سماچار/ افضل
/عطاءاللہ
