ملزم کا مکان گرانے کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے لایا گیا
مرینا، 4 نومبر (ہ س)۔
فائرنگ سے نوجوان کی موت کے بعد مقتول کے اہل خانہ نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے نہیں لے جانے دیا۔ واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ کی ہدایت پر دونوں گا وں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ متاثرین نے لاش رانپور میں رکھ کر کل رات سے مرینا -امباہ روڈ کو بلاک کر رکھا تھا۔ متاثرین کے مطالبے پر مرکزی ملزم کا گھر مسمار کرنے کے بعد ہی ہفتہ کی دوپہر 12 بجے کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے لایا گیا۔ پولیس نے 9 افراد کے خلاف قتل اور اقدام قتل کا مقدمہ درج کرکے ایک مشتبہ شخص کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔ سیکورٹی کے مدنظر متوفی کے گھر پر مسلح پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق راتھول کا پورہ گاؤں کے رہنے والے ایدل سنگھ گرجر اور کچنودھا گاؤں کے سابق سرپنچ شیامو سنگھ تومر ریت کا غیر قانونی کاروبار کرتے ہیں۔ اس بات کو لے کر دونوں کے درمیان جھگڑا چل رہا تھا۔ جمعہ کی رات تقریباً 9 بجے ایدل سنگھ گرجر کچنودھا گاؤں سے ٹریکٹر ٹرالی پر زور سے ڈیک بجاتے ہوئے نکلے، اسی بات پر شیامو سنگھ تومر کا ایدل گرجر سے جھگڑا ہوگیا۔ جھگڑا اتنا بڑھ گیا کہ دونوں طرف سے فائرنگ شروع ہو گئی۔ تیز رفتار فائرنگ میں 33 سالہ ایدل سنگھ ولد آسارام گرجر کے سینے میں گولی لگی جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ ملزم واقعہ کے بعد سے فرار ہے۔ پورا گاؤں پولیس کیمپ بن گیا ہے۔ ایس پی ڈاکٹر اروند ٹھاکر نے بتایا کہ ملزم شیامو تومر کی تلاش کی جا رہی ہے۔
وہیں نوجوان کی موت سے مشتعل اہل خانہ شاہراہ پر آگئے اور دیر رات تک ہنگامہ برپا کرتے رہے۔ آج دوپہر پوسٹ مارٹم کے بعد لاش لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہے۔ پنچایت حکام کی اطلاع پر پولیس اور انتظامیہ کے اہلکار کچنوندھا گاؤں پہنچے اور مکان گرانےکی کاررائی کی اور مکان گرانے تک وہیں موجود رہے۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اروند سنگھ ٹھاکر نے بتایا کہ متاثرین کی رپورٹ پر 9 معلوم اور 2 نامعلوم ملزمان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کر کے تلاش شروع کر دی گئی ہے۔ ملزمان کی تلاش کے لیے تین ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ سائبر ٹیم کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے۔ جلد تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار/
/عطاءاللہ
