ممبئی، 22 اکتوبر (ہ س)۔
ناندیڑ ضلع کی ہدگاو¿ں تحصیل کے بڑگاو¿ں میں کل رات شبھم پوار نامی نوجوان نے زہر پی کر خودکشی کرلی۔ اتوار کی صبح جیسے ہی گاو¿ں والوں کو اطلاع ملی، گاو¿ں میں غصہ پھیل گیا۔ ناندیڑ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔
پولیس نے موقع سے ایک خودکشی نوٹ بھی برآمد کیا ہے، جس میں لکھا گیا ہے کہ میں مراٹھا ریزرویشن کے لیے خودکشی کر رہا ہوں۔خودکش نوٹ میں لکھا ہے کہ میں مراٹھا ریزرویشن کے لیے اپنی جان قربان کر رہا ہوں۔ میری قربانی رائیگاں نہ جائے۔
معلومات کے مطابق، گزشتہ ہفتے ممبئی میں مراٹھا ریزرویشن کے لیے ایک مراٹھا نوجوان نے خودکشی کر لی تھی۔ مراٹھا کرانتی مورچہ کے کوآرڈینیٹر ونود پاٹل نے کہا ہے کہ مراٹھا نوجوانوں کو اپنا صبر برقرار رکھنا چاہیے۔ اس طرح خودکشی کرنے سے مراٹھا سماج کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے مراٹھا نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی طرح خودکشی جیسا سخت قدم نہ اٹھائیں۔
پوری مراٹھا برادری نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک متوفی کے خاندان کو چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے 50 لاکھ روپے کی مالی امداد نہیں مل جاتی اور متوفی نوجوان کی بہن کو سرکاری نوکری اور مکان نہیں مل جاتا تب تک لاش کو اپنے قبضے میں نہیں لیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
