ٹرمپ کو پھر جھٹکا، کولوراڈو کے بعد امریکی ریاست مین نے بھی صدارتی انتخاب کے لیے نااہل قراردیا
واشنگٹن، 29 دسمبر (ہ س)۔ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی امیدوں کو ایک بار پھر بڑا دھچکا لگا ہے۔ دوبارہ صدر بننے کی خواہش رکھنے والے ٹرمپ کو لیکر امریکی ریاست مین کے اعلیٰ انتخابی افسر نے فیصلہ دیا ہے کہ وہ 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔
مین ریاست کی سکریٹری آف اسٹیٹ شینا لی بیلوز نے 2021 کیپٹل ہل کے تشدد میں ٹرمپ کے کردار کولیکر یہ فیصلہ دیا ہے۔ بیلوز نے 34 صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا کہ امریکی آئین ہماری حکومت کی بنیاد پر حملے کو برداشت نہیں کرتا۔ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ ٹرمپ نے 2020 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا جھوٹا دعویٰ کر کے بغاوت پر اکسایا اور اپنے حامیوں سے یو ایس کیپیٹل پر مارچ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس فیصلے کے بعد ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار بننے کے لیے امریکی ریاست مین میں ہونے والے پرائمری انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔
مین دوسری ریاست ہے جس نے ٹرمپ کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی ہے۔ اس سے قبل ایک اور امریکی ریاست کولوراڈو بھی ایسا حکم دے چکی ہے۔ کولوراڈو کی اعلیٰ ترین عدالت نے 19 دسمبر کو ٹرمپ کو ریاست کے پرائمری ووٹ سے نااہل قرار دے دیا۔ ٹرمپ نے اس فیصلے کے خلاف امریکی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرتے ہوئے اپنی نااہلی کو غیر جمہوری قرار دیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
