واشنگٹن ڈی سی میں ایک اہم قانونی پیش رفت کے دوران، ایک وفاقی اپیل عدالت نے امریکی عدالت برائے بین الاقوامی تجارت کے اُس فیصلے کو عارضی طور پر روک دیا ہے، جس میں صدر ٹرمپ کی طرف سے کچھ ممالک پر عائد کیے گئے حد سے زیادہ ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ یہ ٹیرف 1977 کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت نافذ کیے گئے تھے، لیکن تین ججوں کے ایک پینل نے انہیں صدر کے اختیارات سے تجاوز قرار دیا۔ اس فیصلے سے ٹرمپ انتظامیہ کو وقتی ریلیف تو ملا، مگر قانونی جنگ ابھی جاری ہے۔
BulletsIn
-
واشنگٹن ڈی سی کی ایک وفاقی اپیل کورٹ نے جمعرات کو ایک سابقہ عدالتی فیصلے پر روک لگا دی۔
-
یہ فیصلہ امریکی عدالت برائے بین الاقوامی تجارت کے تین ججوں کے پینل کی طرف سے آیا تھا، جس نے ٹرمپ کے کچھ ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
-
تین ججوں کے پینل نے کہا کہ صدر نے وفاقی قانون کے تحت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
-
عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے زیادہ تر وسیع ٹیرف روکنے کے فیصلے کو عارضی طور پر معطل کر دیا۔
-
اس معطلی کے نتیجے میں ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف بحال ہو گئے۔
-
ٹرمپ انتظامیہ نے ان ٹیرف کو 1977 کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت جائز قرار دیا تھا۔
-
لیکن ججوں کے پینل نے اس دلیل کو مسترد کر دیا تھا، جس پر اپیل دائر کی گئی۔
-
محکمہ انصاف نے اس فیصلے کو فیڈرل سرکٹ اپیل کورٹ میں چیلنج کیا۔
-
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کش دیسائی نے موقف اختیار کیا کہ امریکہ کے تجارتی خسارے نے قومی ایمرجنسی کی صورتحال پیدا کی۔
-
دیسائی نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے “امریکہ فرسٹ” پالیسی کے تحت ٹیرف نافذ کیے، جو ان کے دوسرے دور حکومت کے اہم نکات میں شامل ہیں۔
