امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں ایران کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات پر زور دیا گیا۔ ٹرمپ نے نیتن یاھو کو خبردار کیا کہ وہ ایسے کسی اقدام سے گریز کریں جو مذاکرات کے لیے خطرہ بن سکتا ہو، خاص طور پر ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملے کے خدشے کے پیش نظر۔ یہ رابطہ ایک حساس وقت پر کیا گیا جب امریکا ایران کے ساتھ سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسرائیل کی ممکنہ یکطرفہ کارروائیوں پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
BulletsIn
-
امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاھو کو ٹیلیفون پر خبردار کیا کہ وہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھائیں جو ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔
-
امریکی ویب سائٹ “Axios” کے مطابق، ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے دیگر سینئر حکام کو خدشہ ہے کہ اسرائیل ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔
-
یہ گفتگو واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے دو ملازمین کی ہلاکت کے واقعے کے بعد ہوئی۔
-
ٹرمپ نے نیتن یاھو کو یقین دہانی کرائی کہ اگر سفارت کاری ناکام ہو گئی تو فوجی آپشن ابھی بھی موجود ہے۔
-
امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ نیتن یاھو، صدر ٹرمپ کی اجازت کے بغیر بھی فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔
-
امریکی وزیر داخلہ کرسٹی نوم نے یروشلم میں نیتن یاھو سے ملاقات کی اور صدر ٹرمپ کا پیغام پہنچایا۔
-
نوم نے زور دیا کہ تمام فریقین کو مذاکرات کا موقع دینا چاہیے اور کشیدگی نہ بڑھائی جائے۔
-
نوم کے مطابق، ٹرمپ جلدی فیصلہ چاہتے ہیں اور وہ مذاکرات کو مہینوں تک طول دینا نہیں چاہتے۔
-
نوم نے نیتن یاھو سے کہا کہ وہ صرف ایک ہفتہ مزید انتظار کریں۔
-
اسرائیل نے بھی اس صورت حال کے لیے تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوں تو فوری طور پر ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا جا سکے۔
