قطر نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری کیے گئے بیانات کو سختی سے مسترد کیا ہے اور انہیں اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ قطر کا کہنا ہے کہ یہ بیانات نہ صرف اخلاقی اور سیاسی طور پر غیر مناسب ہیں، بلکہ ایک سنجیدہ سفارتی کردار کو بدنام کرنے کی سوچی سمجھی کوشش ہیں۔
BulletsIn
-
قطر نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر کے بیانات کو سختی سے مسترد کیا۔
-
قطر نے ان بیانات کو اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
-
قطر کا کہنا ہے کہ یہ بیانات سیاسی اور اخلاقی لحاظ سے ناقص ہیں۔
-
نیتن یاہو کے دفتر نے قطر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قطر کو دوغلی پالیسی ترک کرنی چاہیے۔
-
اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ وہ جنگ میں منصفانہ ذرائع سے کامیاب ہوگا۔
-
قطر نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو تہذیب کا دفاع قرار دینے کی مذمت کی۔
-
قطر نے اس عمل کو تاریخی استبدادی نظاموں کے نعروں سے تشبیہ دی جو اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے جھوٹ بولتے تھے۔
-
قطر نے جنگ کے خاتمے، شہریوں کے تحفظ اور قیدیوں کی رہائی کے لیے انتھک کوششیں کیں۔
-
قطر نے نیتن یاہو کے اس دعوے کو چیلنج کیا کہ جنگی کارروائیوں سے قیدیوں کی رہائی ممکن ہے۔
-
قطر نے اس بات کو اجاگر کیا کہ پائیدار امن صرف ایک منصفانہ سیاسی تصفیے کے ذریعے ممکن ہے، جس میں فلسطینیوں کو آزاد ریاست کا حق ملے گا۔
