فرانس اور متحدہ عرب امارات نے مصنوعی ذہانت (AI) کے لیے ایک گیگا واٹ ڈیٹا سینٹر کے قیام پر ایک اہم معاہدہ کیا ہے، جس میں 30 سے 50 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ یہ معاہدہ پیرس میں آئندہ ہفتے ہونے والے مصنوعی ذہانت کے عالمی سربراہی اجلاس سے قبل طے پایا، جہاں تقریباً 100 ممالک AI کے مستقبل پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اس معاہدے کا مقصد یورپ اور فرانس کو AI کی عالمی دوڑ میں امریکہ اور چین کے ہم پلہ لانا ہے۔
BulletsIn
- فرانس اور متحدہ عرب امارات نے مصنوعی ذہانت کے لیے ایک گیگا واٹ ڈیٹا سینٹر کے قیام کا معاہدہ کیا۔
- اس منصوبے میں 30 سے 50 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
- فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زید النہیان نے اس شراکت داری پر اتفاق کیا۔
- یہ معاہدہ پیرس میں 10 اور 11 فروری کو ہونے والے AI سربراہی اجلاس سے قبل طے پایا۔
- اجلاس میں تقریباً 100 ممالک AI کے امکانات اور اس کی ترقی پر غور کریں گے۔
- یہ شراکت داری جدید چپس، ڈیٹا سینٹرز، اور ورچوئل ڈیٹا انفراسٹرکچر کے قیام پر مرکوز ہوگی۔
- اس معاہدے کا مقصد فرانس اور متحدہ عرب امارات میں خودمختار AI اور کلاؤڈ ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے۔
- پہلی سرمایہ کاری کا باضابطہ اعلان “چوز فرانس سمٹ” میں 2025 کے آخر میں کیا جائے گا۔
- فرانسیسی حکومت نے AI ڈیٹا سینٹرز کے لیے 35 مقامات کی نشاندہی کر لی ہے۔
- یہ اقدام یورپ کو امریکہ اور چین کے مقابلے میں AI کے میدان میں مضبوط بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔
