جنوبی کوریا کی حکمران پیپلز پاور پارٹی (پی پی پی) نے صدر یون سک یول کے خلاف موقف میں تبدیلی کی ہے، جس سے صدر کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں صدر کے مواخذے پر ہفتہ کو ووٹنگ متوقع ہے، اور حکمران جماعت پیپلز پاور پارٹی اپوزیشن کے ساتھ مل کر صدر کے خلاف ووٹ دے سکتی ہے، جس سے صدر کی برطرفی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
BulletsIn
- پیپلز پاور پارٹی (پی پی پی) نے صدر یون سک یول کے خلاف موقف تبدیل کیا ہے۔
- قومی اسمبلی میں یول کے خلاف مواخذے کی تحریک پر ہفتہ کو ووٹنگ ہونی ہے۔
- پی پی پی کے رہنما ہان ڈونگ ہون نے صدر یول کی برطرفی کی حمایت کی ہے۔
- ہان نے کہا کہ صدر یول نے کمانڈر یو ان ہیونگ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔
- صدر نے سیاستدانوں کو گرفتار کرنے کے لیے فوجی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا استعمال کیا تھا۔
- ہان نے نئے انکشافات کے بعد صدر کی برطرفی کو جمہوریہ کوریا کی حفاظت کے لیے ضروری قرار دیا۔
- ہان نے صدر یون سوک یول کو مارشل لاء آپریشن میں حصہ لینے والے افسران کے خلاف کارروائی میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
- صدر نے ابھی تک مارشل لا کے غیر آئینی ہونے کو تسلیم نہیں کیا۔
- پی پی پی کے دو قانون سازوں نے کھلے عام مواخذے کی حمایت کی ہے۔
- مواخذے کی تحریک کو منظور کرنے کے لیے کم از کم 200 ارکان کی حمایت ضروری ہوگی، جس کے لیے پی پی پی کے کم از کم آٹھ اراکین کی حمایت درکار ہے۔
