علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طالبات کی طرف سے حالیہ احتجاج اس وقت سامنے آیا جب انہیں وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون سے ملنے سے روکا گیا۔ پروفیسر نعیمہ خاتون کے وائس چانسلر بننے پر طالبات کو امید تھی کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے گا، لیکن انتظامیہ کی جانب سے اقامتی ہالوں میں کمرے خالی کرانے کے فیصلے نے طالبات میں بے چینی پیدا کر دی۔ اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے طالبات نے ایڈمنسٹریٹو بلاک پر 7 گھنٹے دھرنا دیا۔
BulletsIn
- علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طالبات کو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون سے ملنے سے روکا گیا۔
- پروفیسر نعیمہ خاتون کے وائس چانسلر بننے پر طالبات کو امید تھی کہ ان کے مسائل حل ہوں گے۔
- انتظامیہ نے اقامتی ہالوں میں کمرے خالی کرانے کا فیصلہ کیا، جس سے طالبات میں بے چینی پیدا ہوئی۔
- طالبات نے اپنی پریشانی بیان کرنے کے لیے وائس چانسلر سے ملاقات کی کوشش کی، مگر انہیں روک دیا گیا۔
- طالبات کو مجبوراً ایڈمنسٹریٹو بلاک پر 7 گھنٹے دھرنا دینا پڑا۔
- وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون سے ملنے میں طلبا کو مشکلات کا سامنا ہے۔
- یونیورسٹی انتظامیہ نے گیارہوں جماعت کے داخلہ امتحانات کے نصاب سے اسلامیات کے حصے کو حذف کیا، جس پر طلبا نے احتجاج کیا۔
- طلبا کو وائس چانسلر سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، جب کہ مبارکباد دینے والوں کی تصاویر اخبارات میں شائع ہوئیں۔
- یونیورسٹی پراکٹر پروفیسر محمد وسیم علی نے اقامتی ہالوں میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر نوجوانوں کو نکالنے کے فیصلے کا اعلان کیا۔
- اقامتی ہالوں میں رہائش پذیر طالبات کو بھی کمرے خالی کرنے کا حکم دیا گیا، جس پر طلبا و طالبات نے احتجاج کیا۔
