ہندوستانی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں آج کے کاروبار کا 83.44 پر اختتام ہوا
نئی دہلی ۔
خام تیل کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے بدھ کو روپیہ ایک بار پھر گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔ دن بھر اتار چڑھاو¿ کا سامنا کرنے کے بعد، ہندوستانی کرنسی نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں آج کا کاروبار 83.44 پر اختتام کو پہنچا۔ یہ روپے کی اب تک کی ریکارڈ کم ترین سطح ہے۔
خیال رہے کہ ڈالر انڈیکس میں اضافے اور ملکی اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کے باعث آج غیر ملکی کرنسی کے تاجروں میں منفی ماحول رہا، جس کی وجہ سے روپے کی قدر مسلسل گرتی رہی۔ روپے کی کمزوری کے باعث ملکی درآمدی بل میں اضافے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی تجارت میں زیادہ تر لین دین امریکی ڈالر کے ذریعے ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوتا ہے تو ہندوستانی تاجروں کو کسی بھی سامان کی درآمد پر زیادہ روپے ادا کرنے پڑیں گے۔ روپے کی کمزوری کا سب سے زیادہ اثر پیٹرولیم اور گیس کی درآمدی قوت پر پڑے گا، کیونکہ ہندوستان اپنی ضرورت کا 85 فیصد سے زیادہ پیٹرولیم اور دیگر متعلقہ مصنوعات بین الاقوامی مارکیٹ سے خریدتا ہے۔
ہندوستان کے کل درآمدی بل میں پٹرولیم اور اس سے متعلقہ مصنوعات کا حصہ بھی تقریباً 30 فیصد ہے۔ ایسے میں اگر روپے کی قدر پر قابو نہ پایا گیا اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو ملک کے درآمدی بل میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
